تاثیر،۱۳ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ارریہ، 13 اپریل: بہار کی ارریہ لوک سبھا سیٹ راشٹریہ جنتا دل کے لیے پریشانی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ پارٹی کے سابق ایم پی سرفراز عالم کی جگہ سابق وزیر شاہنواز عالم کو ٹکٹ دے دیا گیا لیکن دونوں میں مفاہمت کی بجائے اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ سرفراز کی حالیہ ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بہت افسردہ ہیں اور خاموش نہیں رہنے والے ہیں۔ ویڈیو میں وہ روتے ہوئے اپنا درد سرعام شیئر کر رہے ہیں۔
دراصل سرفراز عالم جمعہ کے روز اپنے حامیوں کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔ جہاں وہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اچانک جذباتی ہو گئے۔ وہ اپنے والد اور سابق مرکزی وزیر تسلیم الدین کو یاد کرکے رونے لگے۔ اس ویڈیو میں وہ نہ صرف اپنا درد بیان کر رہے ہیں بلکہ ہائی کمان کے تئیں اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
سابق رکن اسمبلی سرفراز عالم ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے سخت ناراض ہیں۔ علاقے میں چرچا ہے کہ وہ آر جے ڈی سے بغاوت کر کے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد تسلیم الدین کے انتقال کے بعد یہاں سے 2018 میں آر جے ڈی کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب جیتا تھا۔ حالانکہ انہیں 2019 میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس سے پہلے وہ کئی بار جوکی ہاٹ سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔
ارریہ لوک سبھا حلقہ سے کئی بار نمائندگی کرنے والے سابق مرکزی وزیر تسلیم الدین کے دونوں بیٹوں کے درمیان دشمنی ہے۔ گذشتہ بار 2020 کے اسمبلی انتخابات میں بھی دونوں جوکی ہاٹ سیٹ سے آر جے ڈی کے دعویدار تھے۔ بڑے بھائی کو ٹکٹ ملا تو چھوٹے بھائی اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ چلے گئے اور الیکشن بھی جیت لیا۔ تاہم بعد میں وہ چار ایم ایل اے کے ساتھ پارٹی میں واپس آگئے۔
اس بار آر جے ڈی نے لوک سبھا انتخابات کے لیے سرفراز کے بجائے شاہنواز کو ٹکٹ دیا ہے کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ ان کی شبیہ اور مقبولیت ان کے بڑے بھائی سے بہتر ہے۔ جب تیجسوی یادو نتیش کمار کے ساتھ حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ بنے تو انہیں بھی وزیر بنایا گیا۔ ٹکٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے سرفراز نہ صرف شاہنواز سے ناراض ہیں بلکہ لالو یادو اور تیجسوی یادو سے بھی ناراض ہیں۔

