تاثیر،۱۳ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 13 اپریل: بہار میں لوک سبھا انتخابات میں سیٹیں نہ ملنے سے ناراض کئی پارٹیوں کے لیڈر اپنا خیمہ بدل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے سابق ایم پی اشفاق کریم کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ کٹیہار لوک سبھا سیٹ سے ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض اشفاق کریم نے آر جے ڈی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک خط جاری کیا ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے لالو یادو کو مسلم مخالف بھی کہا۔راجیہ سبھا کے سابق ممبر پارلیمنٹ اشفاق کریم نے آر جے ڈی کے قومی صدر لالو پرساد یادو کو خط لکھ کر استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا، ” آپ نے مسلمانوں کے ووٹون پر قبضہ کر لیا ہے، آپ نے انہیں ان کی آبادی کے مطابق باعزت حصہ نہیں دیا ہے، اس لیے اس صورت حال میں میرے لیے آر جے ڈی کے ساتھ سیاست کرنا ممکن نہیں ہے‘‘۔
اشفاق کریم مسلسل 6 سال تک آر جے ڈی سے راجیہ سبھا کے رکن رہے ہیں لیکن ان کی حالیہ میعاد ختم ہونے کے بعد انہیں منوج جھا کے ساتھ دوبارہ راجیہ سبھا نہیں بھیجا گیا۔ ذرائع سے خبر ہے کہ آر جے ڈی نے انہیں کٹیہار سے لوک سبھا کا ٹکٹ دینے کا یقین دلایا تھا۔ پورنیہ کی طرح آر جے ڈی بھی کٹیہار کو اپنے کھاتے میں چاہتی تھی لیکن وہ کانگریس کے کھاتے میں گئی اور یہاں سے طارق انور کو امیدوار بنایا گیا۔
ٹکٹ کٹ جانے سے ناراض اشفاق کریم نے آر جے ڈی سے استعفیٰ دے دیا۔ قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ این ڈی اے کی کئی اتحادی جماعتیں بہت جلد جے ڈی یو میں شامل ہو سکتی ہیں۔ کٹیہار جے ڈی یو کے کھاتے میں ہے اور یہاں سے دلار چند گوسوامی امیدوار ہیں۔ اشفاق کریم کو مسلمانوں میں ایک دانشور سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اشفاق کریم کٹیہار سے این ڈی اے کو مضبوط کریں گے۔
اشفاق کریم الکریم ایجوکیشن ٹرسٹ کے بانی ہیں۔ وہ الکریم یونیورسٹی کے چانسلر اور کٹیہار میڈیکل کالج کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے پہلی بار 2010 میں کٹیہار اسمبلی سے لوک جن شکتی پارٹی سے الیکشن لڑا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
2012 میں اشفاق کریم نے بہار کے کوسی ڈویزن کے 8 اضلاع کے لیے ‘کوسی بیداری مورچہ’ کے نام سے ایک مہم شروع کی۔ کوسی ڈویزن کو ریاست کے قریب کا علاقہ بتاتے ہوئے انہوں نے خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آر جے ڈی کی رکنیت لی اور 2018 میں راجیہ سبھا کے رکن بنے۔ 6 سال تک راجیہ سبھا کے رکن رہے۔

