رائے بریلی : کانگریس کا نیا سورج طلوع ہوگا ؟

تاثیر،۱۹       مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لوک سبھا انتخابات کی سرگرمیاں ان دنوں اپنے شباب پر ہیں۔انھیں سر گرمیوں کے درمیان پانچویں مرحلے کی ووٹنگ آج ہونے والی ہے۔ اس مرحلے میں 6 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کل 49 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ آج اتر پردیش کی جن 14 لوک سبھا سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہونی ہے، ان میں امیٹھی اور رائے بریلی کی سیٹیں بھی شامل ہیں۔ مگر امیٹھی اور رائے بریلی میں سے  اس بار لوگوں کی نظریں رائے بریلی پر تھوڑی زیادہ ہیں۔ سونیا گاندھی یہاں سے مسلسل الیکشن لڑتی رہی ہیں۔اس بار کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی کو یہاں سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ سونیا گاندھی نے رائے بریلی کے لوگوں سے اپنے بیٹے راہل گاندھی کو اپنانے کی  کی جذباتی اپیل کی ہے۔
’’کانگریس کا قلعہ‘‘ نام سے مشہور رائے بریلی میں گزشتہ جمعہ کو انڈیا اتحاد کے کئی اہم لیڈ ایک ساتھ جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر راہل گاندھی کی حمایت میںمنعقدہ انتخابی جلسہ سے سونیا گاندھی نے نہایت جذباتی اندازمیں خطاب کیا تھا۔انھوں نے یہاں کے ووٹرس سے کہا تھا، ’’ مجھے اس بات کی بے انتہا خوشی ہے کہ ایک طویل عرصے بعد مجھے آپ کے درمیان آنے کا موقع ملا ہے۔ آپ نے مجھے بطور ایم پی خدمات انجام دینے کا موقع دیا، یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ ہمارے خاندان کی جڑیں یہاں کی مٹی سے 100 سال سے زیادہ عرصے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اندرا جی کے دل میں بھی رائے بریلی کیلئے ایک الگ ہی مقام تھا۔ ان کے دل میں آپ لوگوں کی بے پناہ محبت تھی۔ میں نے راہل اور پرینکا کو وہی تعلیم دی ہے، جو اندرا جی نے مجھے دی تھی۔ وہ تعلیم یہ ہے کہ سب کی عزت کرو، کمزوروں کے حقوق کے لئے جس سے بھی لڑنا ہو لڑ جاؤ ۔‘‘ انہوں نے کہا ،‘‘ میں اپنا بیٹا آپ کے حوالے کر رہی ہوں، جس طرح آپ نے مجھے تسلیم کیا، اسی طرح راہل گاندھی کو بھی اپناکر رکھنا۔ راہل آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔‘‘
اس موقع پر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی ان کے پاس مہذب اولاد کی طرح کھڑے تھے۔ انتخابی جلسہ میں موجود لوگوں کا ماننا ہے کہ سونیا گاندھی کی یہ تقریر اس قدر دل کو چھو لینے والی تھی کہ بیشتر لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ابھی تک کچھ لوگ اسے ایک تاریخ ساز تقریر قرار دے رہے ہیں تو کچھ کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف 2024 بلکہ 2019  اور  2014 کے انتخابی جلسوں میں بھی کی گئی تقریروں میں سب سے صاف ستھری اور مہذب تقریر وہ تھی جو 17 مئی، 2024 کو رائے بریلی میں منعقد انتخابی جلسے میںسونیا گاندھی کے ذریعہ کی گئی تھی۔ تقریباََ چھ منٹ کی اس تقریر نے تمام سیاسی جماعتوں کے شعلہ بیان  اور دریدہ دہن ’’اسٹار پرچارکوں ‘‘ کے سیاسی قد کو ناپ دیا تھا۔ جلسے میں سونیا گاندھی کے ساتھ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل اور دیگر سینئر لیڈر بھی موجود تھے۔اس موقع سے اکھلیش یادو نے کہا’’ ملک کے عوام اور ریاست کے شہریوں کو جھوٹے خواب دکھائے گئے لیکن، اب سب بیدار ہو گئے ہیں۔ یہ بیداری ووٹ کی شکل میں نظر آنی چاہئے۔‘‘
واضح ہو کہ کانگریس نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں امیٹھی کا قلعہ کھو دیا تھا۔تب کی بار راہل گاندھی کانگریس کی اس روایتی سیٹ سے بحیثیت سیٹنگ ایم پی میدان میں تھے۔ اس وقت بی جے پی امیدوار اسمرتی ایرانی نے لوگوں کو 13 روپئے کیلو چینی، سستے دام میں گیس سلنڈر دلوانے اور دوسرے کئی جھوٹے وعدےکرکے چناؤ جیت گئی تھیں۔ اس بار رائے بریلی کے اپنے قلعے کو بچانا کانگریس کے لیے سیاسی طور پر لازمی تھا۔چنانچہ ایک بڑے سیاسی منصوبہ کے تحت اس بار گاندھی خاندان کے کسی فرد نے امیٹھی سے پرچہ نامزدگی داخل نہیں کیا ہے۔ گاندھی خاندان کے ایک دیرینہ اور بااعتماد شخص مسٹرکشوری لال شرما کو یہاں سے امیدوار بنایا گیا ہے۔حالانکہ یہاں گاندھی فیملی بالخصوص پرینکا گاندھی کی کمپیننگ اتنی دھار دار ہے کہ بی جے پی کو بھی یہ محسوس ہو گیا ہے کہ آبرو خطرے میں ہے۔
  گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں امیٹھی میں راہل گاندھی کی شکست اور اس بار سونیا گاندھی کے چناوی سیاست سے الگ ہو جانے کی وجہ سے 2024 میں رائے بریلی سیٹ کے لئے امیدوار طے کرنے کے معاملے میں پارٹی کے سامنے ایک نیا مسئلہ کھڑا تھا۔ پرچۂ نامزدگی داخل کرنے سے ایک دن پہلے یہاں سے راہل گاندھی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔17 مئی کو منعقد انتخابی جلسے سے سونیا گاندھی کے خطاب کے بعد سے یہاں کے عوام کی زبان پر راہل گاندھی کے علاوہ کسی دوسرے کا نام نہیں ہے۔ جلسے میں موجود بیشتر لوگ تو یہاں تک  کہتے ہوئے نظر آئے کہ ہم رائے بریلی والے کئی نسلوں تک گاندھی فیملی کا قرض نہیں اتار سکیں گے۔حالانکہ اس سیٹ پر بی جے پی کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ وقار داؤ پر ہے۔
  رائے بریلی لوک سبھا سیٹ کا نام آتے ہی اندرا گاندھی سےلے کر سونیا گاندھی تک کے نام ذہن میں دوڑنے لگتے ہیں۔ میںپچھلے تین لوک سبھا انتخابات میں سونیا یہاں سے کانگریس امیدوار تھیں۔2009 کے لوک سبھا انتخابات میں سونیا گاندھی نے یہاںسے بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اُس سال کانگریس کو 72.23 فیصد ووٹ ملے، جب کہ بی جے پی کو 3.82 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد سونیا گاندھی نے2014 کے لوک سبھا انتخابات میں 63.80 ووٹ شیئر کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔   بی جے پی نے اس بار زبردست چھلانگ لگاتے ہوئے 21.05 فیصد ووٹ حاصل کئے۔سونیا گاندھی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں55.80 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ  بی جے پی کو 38.36 فیصد ووٹ حاصل ہوئے  تھے۔  اس بار سونیا گاندھی نے اپنے بیٹے راہل گاندھی کو رائے بریلی کے لوگوں کے حوالے کر دیا ہے۔راہل گاندھی نے بھی ایک عام سیلون میں اپنے بال اور داڑھی کٹواکرزمینی سطح پرعوام سے نفسیاتی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنی کوششوں میں راہل گاندھی بہت حد تک کانیاب بھی ہیں۔ا ب دیکھنا یہی ہے کہ رائے بریلی کی سیٹ امیٹھی کی طرح ہاتھ سے نکل جاتی ہے یا یہاں کانگریس کا نیا سورج نئے آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔
***********