جی ٹی بی اسپتال میں قتل کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال، سیکورٹی ایجنسی پر سوالات، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہٹانے کا مطالبہ

تاثیر۱۵  جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 15 جولائی: جمناپار کے لوگوں کے لیے طبی سہولیات کے سب سے بڑے مرکز گرو تیغ بہادر اسپتال (جی ٹی بی ایچ) میں ہوئی فائرنگ کے واقعے کے خلاف آج صبح اسپتال کے ڈاکٹروں نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کردی۔ اس کی تصدیق ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ( آر ڈی اے) کے صدر ڈاکٹر رجت شرما نے کی ہے۔ انہوں نے اسپتال کو سیکورٹی فراہم کرنے والی ایجنسی پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔
آر ڈی اے کے صدر شرما نے کہا کہ آر ڈی اے کا مطالبہ ہے کہ گرو تیگ بہادر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سیکورٹی فراہم کرنے والی ایجنسی غیر معیاری سیکورٹی گارڈ فراہم کرتی ہے۔ ان کی سروس فوری طور پر ختم کی جائے۔ اس ایجنسی کو بیشتر سرکاری محکموں اور اسپتالوں میں بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرو تیغ بہادر اسپتال انتظامیہ کے کرپٹ اہلکار بغیر ٹینڈر کے بھاری رقم لے کر بلیک لسٹ کمپنی کو توسیع دے رہے ہیں۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو دورہ کرکے تمام معاملات کا نوٹس لینا چاہئے۔ شرما نے کہا کہ اسپتال کے احاطے میں ایک مریض کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے 15 جولائی سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ ہمارے کام کی جگہوں کے تحفظ اور سیکورٹی کے بار بار خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ دہلی حکومت سیکورٹی کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نے کئی بار حفاظتی انتظامات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی، لیکن اس سمت میں کوئی کام نہیں ہوا۔ آر ڈی اے اسپتال کے تمام عملے، مریضوں اور آنے والوں کی حفاظت اور بہبود کو ترجیح دیتا ہے۔ حالیہ واقعہ نے ہماری کمیونٹی کو شدید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب تک ان بنیادی حفاظتی اصلاحات کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جاتا، ڈاکٹر ہڑتال پر رہیں گے۔