تاثیر۱۵ جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 15 جولائی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن 23 جولائی کورواں مالی سال 2024-25 کے لئے مرکزی بجٹ لوک سبھا میں پیش کریں گی۔ اس بار عوام کو بجٹ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ عام لوگوں کو توقع ہے کہ وزیر خزانہ بے روزگاری دور کرنے، مہنگائی میں کمی اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے بڑے اعلانات کر سکتی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ مرکزی بجٹ 2024-25 میں کسی بھی ٹیکس سے پہلے لوگوں کی آمدنی کی حد کو موجودہ 3 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر سکتی ہیں۔ اس بار بجٹ میں تنخواہ دار لوگوں کے لیے انکم ٹیکس میں معیاری کٹوتی کی موجودہ حد کو 50 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کیے جانے کی امید ہے۔ مرکزی بجٹ میں ہوم لون لینے والوں کے لیے ایک بڑی پالیسی میں انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 24(بی) کے تحت ٹیکس فوائد شامل کیے جانے کی امید ہے۔ اس بجٹ سے خواتین کو کھانا پکانے کی گیس پر ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) جیسی ضروری اشیا پر سبسڈی دینے کی بھی امید ہے۔
صحت کی دیکھ بھال کے لیے بھی ایسی ہی کوشش کی توقع ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے رعایتیطبی سہولیات فراہم کئے جانے کی امید ہے۔ اس بجٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے بچت کھاتوں پر ملنے والے سود پر انکم ٹیکس چھوٹ کی موجودہ حد 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی توقع ہے۔ بزرگ شہریوں کے لیے یہ حد 50 ہزار روپے ہو سکتی ہے۔ اس بجٹ میں حکومت آیوشمان بھارت ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد کو دوگنا کر سکتی ہے۔ اس کی شروعات 70 سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو اس کے دائرہ کار میں لانے سے ہوگی۔ انکم ٹیکس ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مرکزی بجٹ 2024-25 میں معیاری کٹوتی کو دوگنا کرکے 1 لاکھ روپے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کیپٹل گین ٹیکس کو بھی معقول بنائے جانے کی امید ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن لوک سبھا میں 2024-25 کا مرکزی بجٹ پیش کریں گی۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اسے منظوری دے دی ہے۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 22 جولائی سے 12 اگست تک چلے گا۔ یہ سیتا رمن کا مسلسل ساتواں بجٹ ہوگا۔ اس کے ساتھ سیتا رمن سابق وزیر اعظم مرارجی دیسائی کو پیچھے چھوڑ دیں گی۔ سیتا رمن نے رواں مالی سال 2024-25 کا عبوری بجٹ یکم فروری 2024 کو پیش کیا تھا۔

