تاثیر ۳ اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 3 اکتوبر: سپریم کورٹ نے جیل میں ذات پات کی بنیاد پر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پراہم فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مختلف ریاستوں کے جیل مینوئل کی ایسی دفعات جن میں ذات کی بنیاد پر کام کوتقسیم کیا ہو، غیر آئینی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ایسے قوانین نوآبادیاتی ذہنیت کی مثال ہیں۔ عدالت نے تمام ریاستوں سے کہا کہ وہ آج کے فیصلے کے مطابق تین ماہ میں اپنے جیل قوانین میں تبدیلی کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یافتہ یا زیر سماعت قیدیوں کے رجسٹر میں ذات کا کالم ہٹا دیا جائے۔ عدالت تین ماہ بعد کیس کی دوبارہ سماعت کرے گی۔ اس دوران تمام ریاستوں کو اپنے جیل مینوئل میں تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔

