روہتاس ضلع میں سی بی ایس ای تسلیم شدہ اسکول قواعد کو نظر انداز کر چلائے جارہے ہیں

تاثیر 24  اپریل ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

             سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) روہتاس ضلع میں سی بی ایس ای کے تسلیم شدہ اسکول قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلائے جارہے ہیں ۔ سماجی کارکن وشال کمار نے اس سلسلے میں ریاستی وزیر برائے انسانی وسائل اور ضلع کلکٹر کو خط لکھا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ تسلیم شدہ اسکول سی بی ایس ای کے ساتھ بھی دھوکہ دہی کررہے ہیں، وہ این او سی حاصل کرنے میں بھی قواعد کی پاسداری نہیں کررہے ہیں، انہوں نے مذکورہ معاملے میں اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ ہو اور والدین کے معاشی استحصال کو روکا جاسکے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سی بی ایس ای سے تسلیم شدہ اسکول میں کلاس روم کا سائز 500 مربع فٹ ہونا چاہئے، بچوں کی نشوونما کے لئے ایک مربع میٹر جگہ فراہم کرنا ضروری ہے ۔ 12ویں تک کے تسلیم شدہ اسکولوں میں فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کے لئے الگ الگ لیبز ہونی چاہئے، کمپیوٹر لیب میں کم از کم 20 سسٹم اور زیادہ سے زیادہ طلباء کے لئے ایک استاذ ہونا چاہئے ۔ اسکول انتظامیہ کے لئے 800 سے زائد بچوں کی گنجائش والے اسکولوں میں دو لیبز کا ہونا لازمی ہے، اسکے علاوہ ایک تسلیم شدہ اسکول میں کلاس روم کے سائز کی ریاضی کی لیب ہونی چاہئے، بچوں کی ذہنی اور فکری نشوونما کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سی بی ایس ای سے تسلیم شدہ اسکولوں میں موسیقی، رقص، آرٹ اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لئے علیحدہ کلاس روم یا ایک کثیر مقصدی ہال تعمیر کیا جائے ۔ معذور طلباء کے لئے خصوصی انتظامات کے پیش نظر سی بی ایس ای سے تسلیم شدہ اسکولوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ معذور طلباء و طالبات کی سہولت کے لئے کلاس رومز اور دیگر اہم مقامات پر ریمپ تعمیر کریں، لفٹوں کو مناسب سہولیات فراہم کرنی چاہئیں جیسے سمعی سگنل اور دیگر ممکنہ بنیادی ڈھانچہ ۔ کم از کم 200 میٹر کا ایتھلیٹکس ٹریک بنایا جائے ۔ کبڈی، کھو کھو، والی بال، باسکٹ بال وغیرہ کے لئے بھی سہولیات ہونی چاہئیں، اسکے ساتھ ساتھ ہر 500 طلباء و طالبات کے لئے ایک فزیکل ایجوکیشن ٹیچر کی تقرری، دسویں اور بارہویں کے لئے تسلیم شدہ اسکولوں میں اسپیشل ایجوکیٹر کے ساتھ کونسلر اور ویلنیس ٹیچر کی تقرری لازمی ہے، جن کے پاس پی جی یا ڈپلومہ یا کارسیلنگ کا ڈپلومہ ہونا چاہئے ۔