تاثیر 20 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بھارت کے نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات کے لئے اِن دنوں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اس انتخابی مقابلے نے نہ صرف نظریاتی خطوط پر ایک نئی لکیر کھینچی ہے بلکہ علاقائی شناخت کے جذبات کو بھی ہوا دی ہے۔ اپوزیشن اتحاد انڈیا (آئی این ڈی آئی اے)نے سابق سپریم کورٹ جج بی سدھرشن ریڈی کو اپنا امیدوار نامزد کر کے ایک ایسی چال چلی ہے، جو نہ صرف نیشنل ڈیموکریٹک الائنس(این ڈی اے) کے لئے چیلنج ہے بلکہ خاص طور پر آندھرا پردیش کی سیاست کو گرم کر رہی ہے۔ دوسری جانب، این ڈی اے نے مہاراشٹر کے گورنر اور تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار بی جے پی رہنما سی پی رادھاکرشنن کو میدان میں اتارا ہے۔مانا جا رہاہے کہ اس انتخاب میں نہ صرف سیاسی اتحادوں کی مضبوطی کی پرکھ مضمر ہےبلکہ اس کے ذریعہ علاقائی تفاخر اور نظریاتی لڑائی کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انڈیا اتحاد کی جانب سے سدھرشن ریڈی کی نامزدگی ایک حکمت عملی سے بھرپور فیصلہ ہے۔ آندھرا پردیش کے رنگاریڈی ضلع سے تعلق رکھنے والے ریڈی، ایک ممتاز قانون داں ہیں ،جنہوں نے اپنے کیریئر میں سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کے لئے مسلسل جدوجہد کی ہے،ان کی غیر سیاسی پس منظر اور آئینی اقدار سے وابستگی انہیں ایک مضبوط امیدوار بناتی ہے۔ اپوزیشن نے انہیں نامزد کر کے ایک طرف تو نظریاتی لڑائی کو ہوا دی ہے، جیسا کہ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ’’ یہ انتخاب آئینی اقدار پر حملوں کے خلاف ایک نظریاتی جنگ ہے۔ ‘‘دوسری طرف، ریڈی کی نامزدگی نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی علاقائی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن کو یقین ہے کہ ریڈی کی مقامی شناخت تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی(وائی ایس آرسی پی) اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) جیسے علاقائی جماعتوں کے لیے فیصلہ سازی کو مشکل بنا دے گی۔ واضح ہو کہ این ڈی اے کی اتحادی ٹی ڈی پی آندھرا پردیش میں برسراقتدار ہے۔
اِدھرٹی ڈی پی کے سربراہ چندرابابو نائیڈو اور ان کے بیٹے نرا لوکیش نے واضح کر دیا ہے کہ وہ این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھاکرشنن کی حمایت کریں گے۔ لوکیش نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے،’’کوئی ابہام نہیں، صرف گرمجوشی، احترام اور عزم ہے۔ این ڈی اے متحد ہے۔‘‘یہ بیان این ڈی اے کے اتحاد کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ٹی ڈی پی اپنے صوبائی فخر کو نظرانداز کر کے سیاسی وفاداری کو ترجیح دے گی؟ اپوزیشن کی حکمت عملی واضح ہے کہ وہ ٹی ڈی پی کو اسی طرح کے اخلاقی دوراہے پر لانا چاہتی تھی جیسا کہ بی جے پی نے تمل ناڈو سے رادھاکرشنن کو نامزد کر کے ڈی ایم کے کے لئے پیدا کیا تھا۔ ڈی ایم کے نے اس چیلنج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ رادھاکرشنن کی نامزدگی کو علاقائی شناخت کے بجائے نظریاتی اور سیاسی تناظر میں دیکھتی ہے۔ اسی طرح، ٹی ڈی پی نے بھی اپنی وفاداری این ڈی اے کے ساتھ برقرار رکھی ہے، لیکن آندھرا پردیش کے عوام میں اس فیصلے کے اثرات کیا ہوں گے، یہ ایک اہم سوال ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عددی اعتبار سے، این ڈی اے کو واضح برتری حاصل ہے۔ نائب صدر کا انتخاب دونوں ایوانوں کے 782 ارکان پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتا ہے، جہاں جیت کے لئے کم از کم 392 ووٹ درکار ہیں۔ این ڈی اے کے پاس لوک سبھا میں 293 اور راجیہ سبھا میں 133 نشستیں ہیں، جو اسے آرام دہ اکثریت دیتی ہیں۔ دوسری جانب، انڈیا اتحاد کے پاس تقریباً 300 ووٹ ہیں، جو جیت کے لئے ناکافی ہیں۔ وائی ایس آر سی پی نے بھی این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ بی آر ایس اور بی جے ڈی جیسے غیر جانبدار جماعتیں ابھی فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ اس صورتحال میں، اپوزیشن کا مقابلہ زیادہ تر ایک علامتی لڑائی ہے، جس کا مقصد بی جے پی کو بغیر مقابلے کے فتح سے روکنا اور اپنی اتحادی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
یہ انتخاب نہ صرف سیاسی حکمت عملی بلکہ علاقائی جذبات کا بھی امتحان ہے۔ بی جے پی نے رادھاکرشنن کے ذریعے تمل ناڈو کی شناخت کو اجاگر کیا ہے، جبکہ انڈیا اتحاد نے ریڈی کے ذریعے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے ووٹرز کے جذبات کو چھونے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، دونوں اتحادوں کے فیصلے نظریاتی خطوط پر مبنی ہیں۔ ڈی ایم کے کی رکن پارلیمنٹ کنیموژی کا کہنا ہے کہ ’’صرف تمل ناڈو سے امیدوار نامزد کرنے سے بی جے پی تمل زبان یا اقدار کی نمائندگی نہیں کرتی۔‘‘ اسی طرح، اپوزیشن سدھرشن ریڈی کو آئینی اقدار کے محافظ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ یہ مقابلہ 9 ستمبر کو ایک دلچسپ نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف نائب صدر کا انتخاب کرے گا بلکہ بھارتی سیاست میں اتحادوں کی طاقت اور علاقائی شناخت کے کردار کو بھی واضح کرے گا۔

