بھارت جرمنی تعلقات: نئی بلندیوں کی جانب پیش قدمی

تاثیر 3 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ہی کثیر الجہتی اور اسٹریٹجک خودمختاری پر مبنی رہی ہے،جو عالمی سطح پر بھارت کی حیثیت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفل کی کل (3ستمبر کو) ہوئی ملاقات نے اس پالیسی کی ایک اور کامیاب مثال پیش کی ہے۔ یہ ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور تکنیکی تعاون کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنی، بلکہ عالمی چیلنجز کے مقابلے میں بھارت کی قائدانہ حیثیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ بھارت، جو اب عالمی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ساتھ ہی س طرح کی شراکت داریوں سے اپنی اقتصادی ترقی کو تیز کر تے ہوئے یورپ کے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر چین کی اجارہ داری کو چیلنج کر رہا ہے۔
اس ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز پر گہری گفتگو کی، جو بھارت کی خارجہ پالیسی کی بنیادی اساس کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارت ہمیشہ سے ہی عالمی مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور سپلائی چین کی حفاظت پر کثیر الجہتی فورمز میں فعال رہا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے تجارتی رکاوٹوں کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو انہیں کم کرکے جواب دینا چاہیے۔ یہ بیان بھارت کی آزاد تجارتی معاہدوں کی حکمت عملی سے مطابقت رکھتا ہے، جو یورپی یونین (ای یو) کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو فروغ دے رہی ہے۔ واڈیفل نے اس ایف ٹی اے کے جلد مکمل ہونے کی امید ظاہر کی، جو بھارت کے لیے ایک بڑی فتح ہوگی۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں یورپ کے ساتھ تعلقات کو تقویت دینا ایک اسٹریٹجک اقدام ہے، جو روس  اوریوکرین تنازعے جیسے بحرانوں میں نیوٹرل رہنے کی پالیسی کو متوازن کرتا ہے۔
تجارتی پہلو پر غور کریں تو گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رشتہ تقریباً 50 بلین یورو کا تھا، اور اب اسے دگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ جے شنکر نے جرمن کمپنیوں کو بھارت میں کاروبار کرنے کی مکمل سہولیات کی یقین دہانی کرائی، جو’’میک ان انڈیا‘‘ اور ‘’’آتم نربھر بھارت‘‘ جیسے پروگراموں کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اقتصادی ڈپلومیسی مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اور یہ ملاقات اسے مزید تقویت بخشتی ہے۔ جرمنی، جو یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے، بھارت کے مارکیٹ کو اپنی برآمدات کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ اس سے بھارت کو نہ صرف سرمایہ کاری ملے گی بلکہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی، جو اس کی دفاعی اور صنعتی ترقی کو تیز کرے گا۔
تکنیکی تعاون کا پہلو اس ملاقات کا سب سے دلچسپ جزو ہے۔ واڈیفل نے بنگلورو میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) اور انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بھارت کی تکنیکی صلاحیتوں کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے بھارت کو’’نوآوری کا پاور ہاؤس‘‘ قرار دیا، جو بھارت کی خارجہ پالیسی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دینے کی تصدیق کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے خلائی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، اور سائبر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ جے شنکر نے 50 سال پرانے سائنسی تعاون کو اب صنعتوں سے جوڑنے کی بات کی، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور ایرو اسپیس جیسے شعبوں میں۔ یہ بھارت کی ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ اور ’’اسپیس ریفارمز‘‘ کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے، جو چین پر انحصار کم کرنے کے لیے مغربی ٹیکنالوجیز کو اپنانے پر زور دیتی ہیں۔
بھارت کی خارجہ پالیسی میں جرمنی جیسے ممالک کے ساتھ شراکت داری اس کی عالمی حیثیت کو مزید بلند کرتی ہے۔ یہ نہ صرف اقتصادی فوائد لائے گی بلکہ جیو پولیٹیکل سطح پر بھی بھارت کو مضبوط کرے گی۔ مثال کے طور پر، انڈو۔پیسفک علاقے میں جرمنی کی بڑھتی دلچسپی بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ‘‘ پالیسی سے ملتی ہے، جو آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے ساتھ کواڈ جیسے اتحادوں کو تقویت بخشتی ہے۔ اس ملاقات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت اب محض ایک ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ عالمی قیادت کا دعویدار ہے۔
مجموعی طور پر، کل دہلی میں ہوئی یہ ملاقات بھارت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی ایک اور مثال ہے، جو کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دے کر اس کی اقتصادی اور اسٹریٹجک خودمختاری کو یقینی بناتی ہے۔یقین ہے کہ جرمنی کے ساتھ یہ شراکت داری نہ صرف تجارت اور ٹیکنالوجی میں انقلاب لائے گی بلکہ عالمی امن اور ترقی میں بھی بھارت کے کردار کو مستحکم کرے گی۔ بھارت کو اس طرح کی ڈپلومیسی یقیناََ جاری رکھنی چاہیے۔ عالمی سطح پر اپنی طاقت کو بنائے رکھنے کے لئے یہ نا گزیر ہے۔