تاثیر 17 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاست اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں سب سے زیادہ گفتگو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صحت اور ان کی سیاسی فعالیت پر ہو رہی ہے۔ مخالفین انہیں ’’تھکا ہوا‘‘ اور ’’غیر فعال‘‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نتیش کمار نے نہ صرف انتظامی طور پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے بلکہ سیاسی فیصلوں میں بھی ان کی بصیرت آج بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔ ان پر لگنے والے الزامات کہ وہ ’’غیر متحرک‘‘ یا ’’کمزور‘‘ ہو چکے ہیں، دراصل انتخابی سیاست کے ہتھکنڈے ہیں، جن کے پیچھے ایک منظم مہم کارفرما ہے۔
بی جے پی کے سینئر رہنما، جے ڈی یو کے اتحادی اور یہاں تک کہ ان کے دیرینہ ناقدین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ نتیش کمار اب بھی بہار کی سیاست میں ’’استحکام‘‘ کی علامت ہیں۔ ان کی قیادت میں بہار نے گورننس، سماجی انصاف، تعلیم، سڑکوں اور بجلی کے میدان میں جو تبدیلی دیکھی، وہ کسی اور عہدِ حکومت میں ممکن نہ تھی۔ ان کی انتظامی بصیرت کی تازہ مثال وہ فیصلہ ہے، جس میں انہوں نے ایل جے پی (آر) کو دی جانے والی متنازع29 نشستوں پر سخت موقف اختیار کیا۔ سونبرسا، راجگیر، موروا اور گائے گھاٹ جیسی نشستوں کو واپس اپنے حصے میں لے کر نتیش نے یہ پیغام دیا کہ وہ اب بھی اتحاد کے اندر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ قدم ان کی سیاسی کمزوری نہیں بلکہ قوتِ ارادی اور قیادت کی پختگی کا مظہر تھا۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وقت کے ساتھ نتیش کمار کی صحت میں کچھ اتار چڑھاؤ ضرور آیا ہے، مگر اس کے باوجود ان کی ذہنی چستی، فیصلہ سازی کی قوت اور ریاستی نظم و نسق پر گرفت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے۔ سیاست میں ان کی موجودگی ایک توازن کی علامت ہے۔ وہ وہی رہنما ہیں، جنہوں نے 2005 میں بہار کو’ پس ماندگی ‘سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا تھا۔ وہ قوم پرستی کے نام پر نفرت کی سیاست سے ہمیشہ دور رہے اور بہار کو فرقہ وارانہ تقسیم سے بچانے میں ان کا کردار تاریخی ہے۔ ان کی سماجی و سیاسی بصیرت کا یہ پہلو آج بھی انہیں دیگر وزرائے اعلیٰ سے ممتاز بناتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بہار میں اگر آج بھی گنگاجمنی تہذیب کی خوشبو برقرار ہے تو اس میں نتیش کمار کی فراست اور ان کی اصولی سیاست کا بڑا حصہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن پر ’’غیر فعال‘‘ ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہی نتیش کمار اپنی پارٹی کے فیصلوں میں حتمی آواز رکھتے ہیں۔ جے ڈی یو کے قومی کارگزار صدر سنجے جھا، سابق صدر للن سنگھ اور وزیرِ خزانہ وجے چودھری جیسے قریبی رہنما محض مشاورت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ پارٹی کے اندر تمام فیصلے، چاہے وہ ٹکٹ تقسیم کا معاملہ ہو یا انتخابی اتحاد کا، نتیش کمار کی منظوری کے بغیر ممکن نہیںہوتا۔ یہ الزام کہ فیصلے دہلی یا کسی اور مرکز سے طے ہو رہے ہیں، دراصل اپوزیشن کے بیانیے کا حصہ ہے۔ خود بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نے بھی واضح کیا ہے کہ ’’جے ڈی یو میں کوئی فیصلہ نتیش کمار کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا‘‘ یہ بیان ان کی سیاسی مرکزیت کا کھلا اعتراف ہے۔
نتیش کمار کے ناقدین بعض اوقات یہ بھول جاتے ہیں کہ قیادت صرف تقریر یا عوامی جلسوں کی سرگرمی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کا اندازہ اس پیمانے سے ہوتا ہے کہ ایک رہنما اپنی ریاست کو کتنا پُرامن، ترقی یافتہ اور ہم آہنگ رکھ سکا ہے۔ نتیش کمار نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بہار میں جس سماجی توازن کو قائم رکھا، وہ خود ایک کامیاب قیادت کی دلیل ہے۔ آج جب ملک کے کئی صوبوں میں سیاست نفرت، مذہب اور تشخص کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہے، بہار میں نتیش کمار اب بھی اعتدال، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے علَم بردار ہیں۔ ان کی موجودگی بہار کے سیاسی منظرنامے میں صرف ایک وزیر اعلیٰ کی نہیں بلکہ ایک اعتدال پسند رہنما کی علامت ہے۔وہ آج بھی ریاست کے ہر سماجی و سیاسی انتشار کے درمیان عقل و دلیل کی روشنی کے مینارکی مانند موجود ہیں۔

