تاثیر 16 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
حیدرآباد ، 16 اپریل :تلنگانہ حکومت نے اپنی جامع سماجی، اقتصادی، تعلیمی، روزگار، سیاسی اورذات پات پرمبنی سروے رپورٹ جاری کردی ہے۔ اس رپورٹ کوعوامی سطح پرپیش کیا گیا ہے تاکہ ریاست کی آبادیاتی ساخت کی تفصیلی تصویرسامنے آ سکے۔ پسماندہ طبقات کی بہبود کی وزیرپونم پربھاکر نے سکریٹریٹ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس رپورٹ کے اجرا کا اعلان کیا۔ پی سی سی صدرمہیش کمارگوڑاورچیف سکریٹری کے. رام کرشناراؤ بھی موجود تھے۔ وزیرنے بتایا کہ اس رپورٹ پرریاستی اسمبلی میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے اورحکومت نے ان نتائج کی بنیاد پرپسماندہ طبقات کے لیے 42 فیصد ریزرویشن کی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
سروے کے مطابق ریاست کی کل 3,55,50,759 آبادی میں پسماندہ طبقات کا سب سے بڑا حصہ 56.33 فیصد ہے، جس میں 10.08 فیصد پسماندہ مسلمان شامل ہیں، جبکہ شیڈولڈ کاسٹ کی آبادی 17.43 فیصد، شیڈولڈ ٹرائب 10.45 فیصد اوردیگر طبقات (او سی/جنرل) 15.79 فیصد پر مشتمل ہیں۔ اوسی زمرے کے اندرریڈی برادری30.47 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا گروپ ہے، اس کے بعد او سی مسلمان (11.08فیصد)، ویشیا (9.07فیصد)، کَمّا (6.56فیصد)، برہمن (5.98فیصد) اورویلما (2.56فیصد) شامل ہیں۔ اس زمرے کے 21.49 فیصد افراد(تقریباً 12 لاکھ) نے اپنی ذات ظاہرنہیں کی۔ سروے میں تعلیم،روزگار،اراضی کی ملکیت، رہائش اور گاڑیوں تک رسائی کے حوالے سے واضح عدم مساوات کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں زمین کی ملکیت میں ریڈی برادری سرفہرست ہے اوراس کے بعد یادو، لمباڈا، مودی راج، مادیگا اورمنّورو کاپوبرادریوں کا نمبرآتا ہے۔

