غیر قانونی طور پر چل رہے بھرواڑہ الٹراساؤنڈ کلینک کو کیا گیا سیل

تاثیر 25 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ)سول سرجن ڈاکٹر ارون کمار کی قیادت میں سنیچر کو پہنچی جانچ ٹیم نے بھرواڑہ واقع الٹراساؤنڈ کلینک کی تفتیش کی۔ ٹیم کے پہنچتے ہی وہاں موجود عملہ کلینک کھلا چھوڑ کر فرار ہو گئے چھاپہ ماری کی خبر ملتے ہی آس پاس کے علاقوں میں غیر قانونی طور پر چل رہے جانچ گھر اور کلینک فوری طور پر بند ہو گئے۔
الٹراساؤنڈ کلینک میں موجود ایک خاتون مریضہ نے بتایا کہ اس سے الٹراساؤنڈ کے لیے تین ہزار روپے فیس لی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کلینک میں جنس معلوم کرنے (لِنگ تعیین) کی شکایت کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ کسی شخص نے اس سلسلے میں سول سرجن سے شکایت کی تھی۔
شکایت کے بعد سول سرجن نے بھرواڑہ الٹراساؤنڈ کے منتظم للت کمار کو دو مرتبہ نوٹس بھیجا تھا، جس میں صورت حال واضح کرنے اور وہاں کام کر رہے ڈاکٹر کے رجسٹریشن وغیرہ کی معلومات مانگی گئی تھی۔ جواب نہ ملنے پر چھاپہ ماری ٹیم وہاں پہنچی۔
موقع پر این سی ڈی او ستیندر مشرا اور انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پریم چند موجود تھے۔ سول سرجن نے بتایا کہ سنگھواڑہ، بھرواڑہ، سمری وغیرہ علاقوں میں غیر قانونی طور پر چل رہے الٹراساؤنڈ، جانچ گھروں اور دیگر کلینکس کی جانچ کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ جانچ کے بعد کارروائی کی جائے گی
سنگھواڑہ پہنچے سول سرجن ڈاکٹر ارون کمار نے سی ایچ سی میں نصب الٹراساؤنڈ مشین کا معائنہ کیا۔ انہوں نے انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پریم چند کو ہدایت دی کہ مریضوں کو الٹراساؤنڈ کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے لیے ڈاکٹر اور عملہ تعینات کرنے کی بات کہی گئی۔سول سرجن نے بتایا کہ اب حاملہ خواتین کو الٹراساؤنڈ کی بہتر سہولت ملے گی۔ انہوں نے دواخانہ، آؤٹ ڈور وغیرہ کا بھی معائنہ کیا۔ شدید گرمی کو دیکھتے ہوئے چمکی وارڈ کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی۔چمکی وارڈ کے معائنے کے بعد وہاں تعینات ڈاکٹرز، اے این ایم اور جی این ایم سے گفتگو کی گئی۔ گرمی سے بچاؤ کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔ سول سرجن نے ہدایت دی کہ علاقے میں ڈائریا اور دیگر موسمی بیماریوں پر نظر رکھی جائے