تاثیر 22 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):کامیشور سنگھ دربھنگہ سنسکرت یونیورسٹی میں 22 اپریل کو منعقدہ سینیٹ کی میٹنگ میں مالی سال 2026-27 کے لیے مجوزہ بجٹ کو منظور کر لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنَین نے کی۔ مالی مشیر اندر کمار نے بجٹ ایوان میں پیش کیا جسے بعد ازاں منظور کر لیا گیا۔پیش کردہ بجٹ کے مطابق کل اخراجات کا اندازہ چار ارب 59 کروڑ 74 لاکھ 21 ہزار 901 روپے لگایا گیا ہے، جبکہ اندرونی ذرائع اور خود مالیاتی اداروں سے متوقع آمدنی دو کروڑ 69 لاکھ 38 ہزار 378 روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر چار ارب 57 کروڑ 04 لاکھ 83 ہزار 523 روپے کے خسارے کا بجٹ منظور ہوا، جسے اب ریاستی حکومت کو بھیجا جائے گا۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس بار تقریباً آٹھ کروڑ روپے زیادہ خسارہ متوقع ہے۔
یونیورسٹی کے پی آر او ڈاکٹر نشیکانت کے مطابق یہ بجٹ ڈاکٹر پون کمار جھا کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے اور اسے آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ خسارے کی تلافی ریاستی حکومت، روسا اور دیگر اداروں سے گرانٹ و عطیات کے ذریعے اور اندرونی وسائل کو بڑھا کر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔بجٹ میں اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے 58 کروڑ 10 لاکھ 7 ہزار 624 روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ غیر تدریسی عملے کے لیے 11 کروڑ 29 لاکھ 78 ہزار 818 روپے کا تخمینہ ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تنخواہوں کی مد میں 69 کروڑ 39 لاکھ 86 ہزار 442 روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔دوسری جانب پنشن، خاندانی پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کے لیے 80 کروڑ 71 لاکھ 70 ہزار 720 روپے رکھے گئے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ تنخواہ اور پنشن کی بقایا مد میں حکومت سے ایک ارب 83 کروڑ 26 لاکھ 67 ہزار 66 روپے کی مانگ کی جائے گی۔دفاتر کے مختلف اخراجات کے لیے 85 کروڑ 42 لاکھ 99 ہزار 924 روپے جبکہ ترقیاتی کاموں کے لیے 26 کروڑ 12 لاکھ 59 ہزار 895 روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مہمان اساتذہ اور آؤٹ سورس ملازمین کے لیے 14 کروڑ 14 لاکھ 20 ہزار روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر منصوبہ اور غیر منصوبہ مد میں چار ارب 45 کروڑ 60 لاکھ 01 ہزار 901 روپے خرچ کیے جانے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔

