مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر عام شہری، خاص طور پر مذہبی شخصیات، ٹرین میں محفوظ نہیں ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے
ٹھاکرگنج (محمد شاداب غیور)
کشن گنج ضلع سے متصل ٹھاکرگنج بلاک کے باکھوٹولی گاؤں کے رہائشی ابول حسین کے صاحبزادے مولانا توصیف رضا مظہری (عمر 26 سال) کی لاش اتر پردیش کے بریلی ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر اتوار دیر رات ریلوے ٹریک کے کنارے مشتبہ حالت میں ملنے سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ اس دل خراش واقعہ کے بعد جہاں اہلِ خانہ میں کہرام مچ گیا ہے، وہیں مقامی لوگوں میں خوف اور غصے کا ماحول بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مرحوم مولانا توصیف رضا کی میت منگل کے روز ان کے آبائی گاؤں باکھوٹولی لائی گئی، جہاں اسلامی طریقۂ کار کے مطابق انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ جنازے میں بڑی تعداد میں مقامی افراد، سماجی کارکنان اور دانشوروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پورے گاؤں میں سوگ کا ماحول قائم تھا۔ موصولہ معلومات کے مطابق، مولانا توصیف رضا مظہری اتر پردیش کے بریلی شریف میں منعقد ہونے والے تاج الشریعہ کے سالانہ عرس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ عرس کے اختتام کے بعد وہ ٹرین کے ذریعے مرادآباد ہوتے ہوئے امروہہ واپس لوٹ رہے تھے، جہاں وہ ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اسی دوران ان کی لاش ریلوے ٹریک کے کنارے مشتبہ حالت میں برآمد ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی ریلوے پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ تلاشی کے دوران ملنے والے آدھار کارڈ اور موبائل فون کی مدد سے متوفی کی شناخت کی گئی اور اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی۔ جیسے ہی یہ افسوسناک خبر گاؤں پہنچی، گھر میں کہرام برپا ہو گیا اور اہلِ خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔
اس معاملے کو لے کر متوفی کے اہلِ خانہ نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرین میں کچھ نامعلوم افراد نے مولانا کے ساتھ لوٹ مار اور مارپیٹ کی، جس کے بعد انہیں چلتی ٹرین سے دھکا دے دیا گیا۔ اہلِ خانہ نے اسے منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک موت کی وجوہات پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر عام شہری، خاص طور پر مذہبی شخصیات، ٹرین میں محفوظ نہیں ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ لوگوں نے ریلوے اور مقامی انتظامیہ سے سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ مرحوم کی شادی تقریباً دو سال قبل ہوئی تھی اور وہ واقعہ سے صرف 12 دن پہلے ہی اپنے گھر سے اتر پردیش گئے تھے۔ ان کی اچانک موت سے اہلِ خانہ شدید صدمے میں ہیں۔ ادھر، اہلِ خانہ اور علاقے کے لوگوں نے کشن گنج کے عوامی نمائندوں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر جاوید آزاد، ایم ایل اے گوپال کمار اگروال، ضلع پریشد نمائندہ فیاض عالم اور امور کے ایم ایل اے اخترالایمان سے درخواست کی ہے کہ وہ بریلی انتظامیہ سے بات چیت کر کے معاملے کی منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف اور مناسب معاوضہ دلانے میں تعاون کریں۔
فی الحال، پولیس اس پورے معاملے کی جانچ کے بعد اور دیگر شواہد کی بنیاد پر ہی موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔

