کمل ناتھ کا نظامِ تعلیم کو لے کر حکومت پر حملہ، کہا: 55فیصد بچے 12 ویں سے پہلے اسکول چھوڑ رہے ہیں

تاثیر 10 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 10 مئی : مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر کمل ناتھ نے ریاست کے نظامِ تعلیم کو لے کرریاستی حکومت پر تیکھا حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں نظامِ تعلیم مکمل طور بدحال ہوچکا ہے اوراس کی تصدیق خود نیتی آیوگ کی رپورٹ سے ہوتی ہے۔

کمل ناتھ نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’مدھیہ پردیش میں نظامِ تعلیم کس قدر لچر ہو چکا ہے، یہ خود نیتی آیوگ کی رپورٹ نے واضح کر دیا ہے۔ بارہویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے 55فیصد بچے اسکول سے باہر ہو جا رہے ہیں۔ یعنی مدھیہ پردیش کے آدھے سے زیادہ بچے بارہویں سے اوپر کی پڑھائی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ریاست میں اساتذہ کی دستیابی کا حال یہ ہے کہ 52,000 اساتذہ کے عہدے خالی پڑے ہیں اور 7,000 اسکول صرف ایک استاد کے بھروسے چل رہے ہیں۔ جو اساتذہ دستیاب ہیں، ان کی قابلیت کا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے ہی مضمون کے امتحان میں 60 سے 70فیصد نمبر حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔‘‘

کمل ناتھ نے مزید کہا کہ نظامِ تعلیم کے بدحال ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تعلیم، استاد اور طلبہ کو حکومت ترجیح نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اسکولوں میں کافی اساتذہ ہی نہیں ہوں گے، تو بچوں کی پڑھائی کیسے ہوگی۔ ایسے حالات میں طلبہ کا اسکول چھوڑنا فطری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اساتذہ کو پڑھائی کے علاوہ دیگر سرکاری کاموں میں اتنا مصروف رکھا جاتا ہے کہ وہ تعلیم پر پوری توجہ نہیں دے پاتے۔