بنگلہ دیش ہائی کورٹ کا اقلیتی مذہبی رہنما چنمے برہم چاری کو ضمانت دینے سے انکار

تاثیر 10 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈھاکہ ، 10 مئی : بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ چٹوگرام (سابقہ نام چٹ گاو¿ں) نے علیف قتل کیس میں اقلیتی فرقہ کے مذہبی رہنما سنت چنمے کرشنا داس برہمچاری کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس کے ایم زاہد سرور اور جسٹس شیخ ابو طاہر پر مشتمل بینچ نے ان کی درخواست ضمانت پر جاری کیے گئے سابقہ حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔ بنچ پیر کو چار دیگر معاملات میں ان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ڈھاکہ ٹریبیون کی خبر کے مطابق ، ایڈوکیٹ اپوربا کمار بھٹاچاریہ چنمے داس کی طرف سے پیش ہوئے ، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل شیلا شرمین اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد الامین نے حکومت کی نمائندگی کی۔ قبل ازیں 30 اپریل کو ہائی کورٹ نے انہیں قومی پرچم کی مبینہ بے حرمتی سے متعلق بغاوت کے مقدمے میں ضمانت دی تھی۔

31 اکتوبر 2024 کو چندگاو¿ں موہرا وارڈ یونٹ کے جنرل سکریٹری فیروز خان نے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں چنمے کرشنا داس برہمچاری اور دیگر 19 افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرایا۔ چنمے داس اور کئی دیگر افراد کو اسی سال 25 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔26 نومبر 2025 کو چٹوگرام عدالت کے احاطے میں ان کے حامیوں کے درمیان بغاوت کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔ تشدد کے دوران وکیل سیف الاسلام کو زدوکوب کیا گیا اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ یکم ستمبر 2025 کو ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا کہ چنموئے داس کو قتل کے مقدمے سمیت پانچ مختلف مقدمات میں ضمانت کیوں نہ دی جائے۔