تاثیر 11 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفر پور، 11 مئی: بہار کے مظفر پور ضلع کے مدوان بلاک کے تحت واقع جیان کھرد گاؤں سے انسانیت اور سماجی انصاف کو ہلا دینے والا ایک عجیب واقعہ سامنے آیا ہے۔ پنچایت کے انوکھے اور سخت حکم کے بعد ایک خاتون کو ہندو رسومات کے مطابق اس کے زندہ رہتے ہی اس کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ معاشرے میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے خاندان نے اپنی ہی بیٹی کو کاغذ پر اور رسومات میں “مردہ” قرار دیا اور اس کا پتلا جلا دیا۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً، ایک ماہ قبل جیان کھرد گاؤں کی لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔ اس واقعہ سے ناراض ہو کر اہل خانہ نے کرجا تھانہ میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے فوری طور پر لڑکی کو بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت میں اپنے بیان میں خاتون نے واضح کیا کہ وہ بالغ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ اس نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اپنے گھر والوں پر ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایا۔ عدالتی حکم کے بعد پولیس نے خاتون کو اس کی خواہش کے مطابق اس کے سسرال بھیج دیا۔

