کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں

تاثیر 8 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مذہبی تعصب اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی ایک اور مثال سامنے آئی ہے، جس نے نہ صرف ایک خاتون فوجی افسر کی عزت کو مجروح کیا ہے بلکہ ملک کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان لگایا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر کنور وجے شاہ کی کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں کیا گیامتنازعہ اور اشتعال انگیز تبصرہ اب عدالت عظمیٰ میں زیر بحث ہے، جہاں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
گذشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارتی فوج کی طرف سے پاکستان کے خلاف کیے گئے ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران کرنل صوفیہ قریشی میڈیا بریفنگ کر رہی تھیں۔ ایک خاتون افسر کی طرف سے قومی سطح پر پیش کیے جانے والے اس بیان کو فخر کا موقع سمجھا جانا چاہئے تھا، مگر وزیر وجے شاہ نے ایک عوامی جلسے میں اسے مذہبی رنگ دے کر کہا کہ ”جنہوں نے ہماری بیٹیوں کو بیوہ کیا، ہم نے ان کی ایک بہن کو انھیں سبق سکھانے کے لئے بھیجا ہے۔“ یہ جملہ نہ صرف کرنل صوفیہ قریشی کی طرف اشارہ تھا بلکہ ان کے مسلمان ہونے کو بھی نشانہ بناتا تھا۔ظاہر ہے، اس بیان نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر پیدا کر دی تھی۔
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایس آئی ٹی رپورٹ اور عدالتی کارروائی سے واضح ہوا ہے کہ وزیر کے بیان میں نفرت انگیز مواد موجود تھا۔ چیف جسٹس نے جمعہ کے روز معاملے کی سماعت کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا کہ ”اب بس، بہت ہو چکا۔“ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر کی طرف سے سب سے پہلے معافی مانگنی چاہئے تھی، نہ کہ عدالتی مداخلت کے بعد۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایس آئی ٹی کی سفارش پر وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دو ہفتے پہلے ہی دے دینی چاہیے تھی۔سولیسیٹر جنرل تُشار مہتا نے وزیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ کرنل صوفیہ کی تعریف کرنا چاہتے تھے مگر الفاظ درست نہ نکال سکے۔ چیف جسٹس نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک تجربہ کار سیاستدان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک خاتون فوجی افسر کی تعریف کیسے کی جاتی ہے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایسے بیانات دینا وزیر کی عادت بن چکی ہے۔
ظاہر ہے،یہ واقعہ صرف ایک وزیر کے ذاتی بیان تک محدود نہیں ہے۔ یہ بڑی حد تک موجودہ سیاسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں قومی فخر کے لمحات کو بھی فرقہ وارانہ عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ کرنل صوفیہ قریشی نے جو کام کیا وہ ان کا پیشہ ورانہ فرض تھا۔ انہیں مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا نہ صرف ان کی ذات بلکہ بھارتی فوج کی سیکولر اور غیر جانبدار حیثیت پر حملہ ہے۔ مسلح افواج میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ایک ہی وردی میں ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کے درمیان مذہبی تفریق پیدا کرنے کی کوشش قومی سلامتی کے لئے نقصان دہ ہے۔
اس تنازع نے دو اہم سوالات کھڑے کیے ہیں۔ اول، عوامی عہدوں پر فائز افراد کیا اپنی ذمہ داریوں سے بالاتر ہو کر نفرت پھیلانے کے حق کو استعمال کر سکتے ہیں؟ دوم، ریاستی حکومتیں جب اپنے وزراء کے خلاف کارروائی میں تاخیر کرتی ہیں تو کیا یہ قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے اب تک کی تاخیر افسوسناک ہے۔
بہر حال سپریم کورٹ کا سخت رویہ خوش آئند ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ وزیر ہی کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ اب ریاستی حکومت کو فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ وزیر وجے شاہ کو نہ صرف معافی نامہ جاری کرنا چاہیے بلکہ اگر ایس آئی ٹی رپورٹ میں ثبوت ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ظاہر ہے، یہ معاملہ صرف کرنل صوفیہ قریشی کا نہیں، بلکہ ہر اس خاتون کا ہے، جو قومی خدمت میں مصروف ہے۔ یہ فوج کی عزت اور ملک کی سیکولر شناخت کا معاملہ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مسلح افواج مذہب، ذات اور علاقے سے بالاتر رہیں تو سیاستدانوں کو بھی اسی سطح کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ نفرت اور تعصب کی سیاست کو اب روکنا ہوگا، ورنہ قومی اتحاد اور سلامتی دونوں خطرے میں پڑ جائیں گے۔
***********