تاثیر 16 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
وزیراعظم نریندر مودی کی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ گزشتہ روز ابو ظہبی میں ہوئی ملاقات کو بہت ہی اہم اور دور رس نتائج کا حامل مانا جا رہا ہے۔ اس ملاقات نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے بلکہ مغربی ایشیا میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے بھارت کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو بھی واضح کیا ہے۔اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے واضح طور پر کہا تھاکہ بھارت مغربی ایشیا میں امن و استحکام کی جلد از جلد بحالی کے لئے ہر ممکن تعاون دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے یو اے ای کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہر صورتحال میں یو اے ای کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
ظاہر ہے،یہ بیان اس وقت خاص اہمیت کا حامل ہے، جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے عالمی سلامتی، معاشی استحکام اور توانائی کی فراہمی کو شدید خطرات لاحق کر رکھے ہیں۔ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز کے سے محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے پر زور دیا، جو نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کے لئے انتہائی اہم ہے۔ بھارت اپنی تقریباً 87 فیصد خام تیل کی ضروریات درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لئے ہرمز کا محفوظ راستہ ہمارے لئے اسٹریٹجک ترجیح ہے۔اس ملاقات میں یو اے ای پر ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں ناقابل قبول قرار دیا اور یو اے ای کی، صبر و تحمل پر مبنی سفارتی پالیسی کی تعریف کی۔ انہوں نے بات چیت اور سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہوئے واضح کیا کہ تنازعات کا حل پرامن اور گفت و شنید کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اس دورے کے دوران ایل پی جی کی سپلائی اور اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے متعلق اہم معاہدوں پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ یہ معاہدے اس وقت ہوئے جب مغربی ایشیا کے تنازع کی وجہ سے عالمی توانائی کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں ملکی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر وزیراعظم نے عوام سے ایندھن کی بچت کی اپیل بھی کی تھی۔ ان معاہدوں سے نہ صرف بھارت کی توانائی کی حفاظت کو تقویت ملے گی بلکہ آنے والے وقت میں معاشی استحکام بھی حاصل ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ بھارت اور یو اے ای کے تعلقات صرف توانائی اور تجارت تک محدود نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور دفاعی شعبوں میں بھی گہرے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعاون، خصوصاً انسداد دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے۔
موجودہ عالمی حالات میں بھارت کا یہ فعال سفارتی رویہ قابل ستائش ہے۔ ایک طرف جہاں روس-یوکرین تنازع اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجودبھارت اپنی معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے، وہیں دوسری طرف وہ عالمی ذمہ داری کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے۔ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے یہ واضح کیا کہ علاقائی تنازعات کا اثر صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑتا ہے۔تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی ایشیا کے مسائل انتہائی پیچیدہ ہیں۔ مذہبی، فرقہ وارانہ اور جغرافیائی تنازعات کی جڑیں گہری ہیں۔ بھارت کا موقف درست ہے کہ فریقین کو سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہئے۔ طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔وزیراعظم مودی کی یہ ملاقات اور بیانات بھارت کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایک بڑی معاشی طاقت اور ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے طور پر بھارت کا امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی موقف نہ صرف اس کے اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا ہے۔ چنانچہ اس دورے کے دوررس نتائج متوقع ہیں۔مانا جا رہا کہ توانائی کی محفوظ سپلائی، اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی امن کی کوششوں سے بھارت نہ صرف اپنے شہریوں کے مفادات کو محفوظ بنائے گا بلکہ عالمی سطح پر امن کا پیغام بھی دے گا۔ امید ہے کہ تمام فریقین وزیراعظم نریندر مودی کے اس پرامن اور تعاون پر مبنی نقطہ نظر کو سراہتے ہوئے علاقائی استحکام کی طرف عملی اقدامات کریں گے۔
*******

