تاثیر 12 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بیٹری ناقص،زیادہ قیمت وصولی اور استعمال کرنے کی ٹریننگ نہ دینے کی شکایت
چھپرہ(نقیب احمد)
پہلی دفعہ مرکزی حج کمیٹی نے عازمین حج کو سہولت کے نام پر اسمارٹ واچ مہیا کرایا ہے۔مگر یہ سہولت کی بجائے باعث زحمت ثابت ہو رہا ہے۔اس تعلق سے ضلع حج ٹرینر مع مدرسہ مدینتہ العلوم کے ناظم اعلیٰ جاوید عالم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موجود عازمین سے بات چیت کے حوالے سے بتایا کہ اسمارٹ واچ کی بیٹری نہایت ہی ناقص قسم کی ہے۔بمشکل ڈھائی تین گھنٹے ہی چل رہی ہے۔واضح ہو کہ حجاج کرام کو بچھڑ جانے یا گم ہونے کی صورت میں انہیں تلاش کرنے کے نام پر اسمارٹ واچ مہیا کرائی گئی ہے۔اس کے تعلق سے کئی طرح کی شکایتیں مل رہی ہیں اور جس مقصد کیلئے بلند بانگ دعوے کے ساتھ اسے عازمین پر تھو پا گیا۔اس پر سوالیہ نشان لگتا نظر آرہا ہے۔یہ عازمین کے لیے ایک مسئلہ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔سبھی اسے چارج کرنے کو لے کر پریشان ہو رہے ہیں۔اس سے انہیں حج کے ایام میں بہت زیادہ وقت ہوگی۔جاوید عالم نے کہا کہ ایک عازم سے اسمارٹ واچ کے تقریبا 5200 روپے چارج کئے جانے کی بات سامنے آرہی ہے۔جبکہ مارکیٹ میں اس سے سستی اور کارآمد اسمارٹ واچ دستیاب ہیں۔اگر بالفرض مذکوره ہی قیمت مان لی جائے تو ہندوستان کے کل ایک لاکھ 22 ہزار 500 عازمین سے مجموعی طور پر 54 کروڑ روپے وصول لیے گئے۔اس کے علاوہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے کی ٹریننگ عازمین حج کو نہ نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی حج انسپکٹرز ( ایس ایچ آئی ) کو دی گئی۔اگر گھڑی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا تو پہلے سے ہی موجود حج سویدھا ایپ میں اس کا ٹریکنگ سسٹم ڈالا جا سکتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ کچھ عازمین اور عازمین کی خدمت کرنے والی تنظیموں اور کچھ حج کمیٹی کے افسران کا یہ اندیشہ درست معلوم ہوتا ہے کہ عازمین کی سہولت اور انہیں فائدہ پہنچانے کے بجائے کہیں یہ نفع بخش کاروبار تو نہیں ہے۔اور عازمین کی سہولت کی آڑ میں چند دن میں ہی خطیر رقم کمالی گئی۔جناب عالم نے کہا کہ مرکزی حج کمیٹی کا یہ واضح اسٹینڈ رہا ہے کہ حاجی کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس سے کس خدمت کے عوض کتنی رقم چارج کی گئی۔جیسا کہ حج پر روانگی شروع ہونے کے باوجود اس دفعہ مزید 10 ہزار روپے ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت بڑھنے کے نام پر جمع کرانے کا حج کمیٹی نے سرکیولر جاری کیا تھا اور بڑی تعداد میں عازمین نے جمع بھی کرایا۔عازمین کی خدمت کرنے والی کمیٹیوں کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ بلا شبہ عازمین کی سہولت کی خاطر حج کمیٹی قدم اٹھاتی ہے۔لیکن اگر کہیں شک پیدا ہو تو اس کی وضاحت بھی حج کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔مسٹر عالم نے واضح کیا کہ حج کمیٹی کا پورا نظام مع تنخواہ کی ادائیگی حاجیوں کی گاڑھی کمائی سے کیا جاتا ہے۔حکومت کسی قسم کی مالی مدد نہیں دیتی ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ حاجیوں کے مفادات کو مقدم رکھے۔انہوں نے کہا کہ ابھی حج کے ایام شروع نہیں ہوئے ہیں تو عازمین کسی طرح گھڑی کو چارج کر لے رہے ہیں۔مگر حج کے دوران کیا کریں گے۔انہوں نے مرکزی حج کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ حجاج کرام کو کم از کم 5 دن چلنے والی بیٹری دی جائے تا کہ چارجنگ کا جھنجھٹ نہ رہے۔

