تاثیر 3 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) روہتاس ضلع ہیڈکوارٹر سہسرام صدر اسپتال میں محکمہ صحت کی سنگین لاپرواہی کا انکشاف ہوا ہے، ایک زخمی خاتون ایمبولینس کے انتظار میں دم توڑ گئی ۔ متوفی 60 سالہ شانتی دیوی جو سورجپورہ بلاک ملکی گاؤں کی رہنے والی راس بہاری مشرا کی بیوی ہے جو ہفتہ کی صبح اپنے شوہر کے ساتھ دینارہ میں تھی، وہ ان کے گھر کی چھت سے گر کر شدید زخمی ہو گئی تھی، جسے اسکے اہل خانہ نے اسے فوری طور پر دینارہ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر پہنچایا تھا ۔ ابتدائی علاج کے بعد ڈاکٹروں نے اسکی نازک حالت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے صدر اسپتال سہسرام کے ٹراما سینٹر ریفر کر دیا ۔ خاتون کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی اور اس کی حالت بگڑ رہی تھی تبھی صدر اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے بہتر علاج کے لئے پی ایم سی ایچ پٹنہ ریفر کر دیا اسکے بعد اہل خانہ نے ایمبولینس کے لئے 102 سے رابطہ کیا، شروع میں کال مصروف تھی، بعد ازاں رابطہ کرنے پر انھیں ایمبولینس کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم ایمبولینس کو پہنچنے میں تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگے، اسی دوران شدید زخمی شانتی دیوی نے اسپتال کے احاطہ میں ہی دم توڑ دیا ۔ محکمہ صحت پر غفلت اور بدانتظامی کے الزام واقعہ پر اہل خانہ میں غم و غصہ پھیل گیا، انھوں نے محکمہ صحت پر غفلت اور بدانتظامی کا الزام لگایا ہے، اگر ایمبولینس بروقت دستیاب ہوتی تو خاتون کی جان بچائی جا سکتی تھی ۔ٹراما سینٹر کے معالج ڈاکٹر ویملیندو کمار نے بھی تسلیم کیا کہ مریضہ کی حالت نازک ہے اور اسے فوری طور پر ریفر کر دیا گیا، لیکن ایمبولینس میں تاخیر ہوئی ۔ اس واقعہ نے صحت کے نظام کی خامیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے جہاں حکومت صحت کی بہتر خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہے مگر مریضوں کو بنیادی سہولیات بروقت نہیں مل رہی ہے ۔ عینی شاہدین نے بھی یہ کہا کہ اگر ایمبولینس بروقت دستیاب ہوتی تو جان بچ سکتی تھی ۔

