بنگال میں جمہوریت کا امتحان

تاثیر 03 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پچھلے کچھ ہفتوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں زبرست ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی میں بغاوت، استعفوں کا سلسلہ اور اندرونی خلفشار شدت اختیار کر گیا ہے۔ ممتا بنرجی، جو صرف 13 سال کی جدوجہد کے بعد بائیں بازو کی 34 سالہ حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار تک پہنچی تھیں، اب اپنے طویل سیاسی کیریئر کی سب سے بڑی آزمائش سے دوچار ہیں۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا محض اقتدار ہی ترنمول کانگریس کو متحد رکھنے کا واحد ذریعہ تھا؟
حالیہ واقعات تشویش ناک ہیں۔ سونارپور میں ابھیشیک بنرجی پر حملہ، کلیان بنرجی کا خود پر حملے کا دعویٰ، جعلی دستخط کے تنازع میں دو اراکین اسمبلی ریت برت بنرجی اورسندیپن ساہا کی برطرفی، اور پارٹی ترجمان ریجو دت کی جانب سے ’’اصل ترنمول ‘‘ ہونے کا دعویٰ ، یہ سب کچھ پارٹی کے اندر دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ممتا بنرجی نے ان واقعات کی ذمہ داری بی جے پی پر ڈالی ہے اور الزام لگایا ہے کہ اراکین اسمبلی کو دھمکیوں اور پیسوں کے لالچ سے توڑا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کا موقف ہے کہ ترنمول کو توڑنے کی ضرورت نہیں، یہ خود بخود ٹوٹ رہی ہے کیونکہ یہ اقتدار پر مبنی جماعت تھی۔
ظاہر ہے،یہ بحران صرف ایک پارٹی کا نہیں بلکہ بھارت کے جمہوری نظام کا معاملہ ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، جہاں عوام کی مرضی کے مطابق حکومت بدلتی ہے، اقلیتوں کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور مخالفین کو سیاسی میدان میں کھل کر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ترنمول کانگریس نے بھی ماضی میں اسی جمہوری عمل کا فائدہ اٹھا کر بائیں بازو کی طویل حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ اب جب خود ان کے ہاتھ سے اقتدار نکلا ہے تو جمہوری اقدار کا پاس رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔
اقتدار کا نقصان سیاسی جماعتوں کےلئے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کانگریس، بائیں بازو اور دیگر جماعتوں نے بھی اقتدار کھونے کے بعد اندرونی انتشار کا سامنا کیا تھا۔ لیکن جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں تبدیلی قدرتی ہے۔ترنمول  کانگریس کو چاہیے کہ وہ اندرونی اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کرے۔ پارٹی کے اندر اندرونی جمہوریت، شفاف فیصلہ سازی اور نوجوان رہنماؤں کو موقع دینا ضروری ہے۔ جعلی دستخط جیسے الزامات پارٹی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے تنازعات کو عدالتی اور پارٹی سطح پر شفاف طریقے سے نمٹانا چاہیے۔دوسری طرف، اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت کو بھی جمہوری اصولوں کا پاس رکھنا ہوگا۔ مخالف پارٹی کے اراکین کو دھمکیاں، لالچ یا زبردستی توڑنے کی کوئی بھی کوشش آئین کی روح کے خلاف ہے۔ سیاسی ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ یا آپریشن کمل جیسے طریقے جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔ بنگال میں پولیس اور انتظامیہ کو غیر جانبدار رہنا چاہئے تاکہ سیاسی انتقام کا تاثر نہ بنے۔
ممتا بنرجی ایک جنگجو سیاستدان کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے بنگال کی سیاست میں خواتین کی قیادت کا نئی مثال قائم کی۔ تاہم، طویل اقتدار کے دوران پارٹی میں خاندانی سیاست، بدعنوانی کے الزامات اور مخالفین کو دبانے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اب انہیں موقع ملا ہے کہ وہ پارٹی کو نظریاتی بنیادوں پر مضبوط کریں، نہ کہ صرف اقتدار کے گرد گھومنے والی مشین بنائیں۔
بھارت کی جمہوریت کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں آئین، قانون کی حکمرانی اور پرامن تبدیلی کا احترام کریں۔ ترنمول کانگریس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ممتا بنرجی کس حد تک اندرونی بغاوت کو منظم طریقے سے سنبھالتی ہیں اور بی جے پی کس حد تک اخلاقی سیاست کا مظاہرہ کرتی ہے۔جمہوریت صرف انتخابات جیتنے کا نام نہیں بلکہ اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے باہر نکلنے کے بعد بھی اصولوں پر قائم رہنے کا نام ہے۔ بنگال کی سیاست اگر صحت مند رہی تو پورا ملک فائدہ اٹھائے گا۔ تمام فریقوں سے اپیل ہے کہ وہ ذاتی اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر بھارت کی عظیم جمہوری روایت کو مضبوط بنائیں۔
****