مدھیہ پردیش میں بیٹیوں کے لیے لاڈلی لکشمی یوجنا اعلیٰ تعلیم کا سہارا بنی

تاثیر 04 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 4 جون :’’اگر حکومت سے مدد نہ ملتی، تو غربت کے آگے میرے گھٹنے ٹک جاتے اور میری پڑھائی ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی۔ آج میں کالج جا رہی ہوں، تو صرف اس لیے کیونکہ میرے سر پر ’لاڈلی لکشمی یوجنا‘ کا ہاتھ ہے۔‘‘یہ جذباتی کر دینے والے الفاظ ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے اشوک نگر ضلع کی پرتیبھا بوریڈیا کے ہیں۔ یہ محض ایک بچی کی زبانی نہیں ہے، بلکہ ریاستی حکومت کی پرجوش ’لاڈلی لکشمی یوجنا‘ کی کامیابی کی وہ جیتی جاگتی کہانی ہے، جو آج ریاست کی لاکھوں بیٹیوں کی زندگی میں روشنی بکھیر رہی ہے۔
اقتصادی تنگی اور مجبوریوں کے اندھیرے کو چیر کر اپنی قسمت خود لکھنے والی دو بیٹیوں- پرتیبھا بوریڈیا اور اوشین خان کی داستان آج قومی سطح پر ان تمام خاندانوں کے لیے ایک مثال ہے، جو مالی تنگی کی وجہ سے بیٹیوں کی پڑھائی بیچ میں ہی چھڑوا دیتے ہیں۔اشوک نگر کے وارڈ نمبر 21 کی رہنے والی پرتیبھا کے والد راجیندر رجک مزدوری کرتے ہیں۔ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اس خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کے ساتھ بچوں کو پڑھانا ایک بڑے پہاڑ جیسا تھا۔ پرتیبھا بتاتی ہیں کہ جب وہ 12ویں کلاس میں تھیں، تو گھر کے مالی حالات دیکھ کر انہیں لگا کہ اب پڑھائی کا سفر یہیں تھم جائے گا۔ٹھیک ایسی ہی کہانی وارڈ نمبر 18 کی اوشین خان کی بھی ہے۔ متوسط طبقے کے مزدور خاندان سے تعلق رکھنے والی اوشین کے والد امجد خان پر پورے خاندان اور بچوں کی تعلیم کا بھاری بوجھ تھا۔ لیکن، دونوں ہی بیٹیوں کے خوابوں کے آڑے غربت نہیں آسکی، کیونکہ بچپن میں ہی آنگن واڑی کارکنوں کے ذریعے ان کا رجسٹریشن لاڈلی لکشمی یوجنا میں ہو چکا تھا۔