تاثیر 07 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ رابڑی دیوی اور راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے صدر لالو پرساد یادو سمیت ان کے خاندان کی سیکورٹی میں کی گئی کٹوتی نے تند و تیز سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے ریاستی سیکورٹی کمیٹی کی سفارشات پر لالو پرساد، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کی زیڈ پلس سطح کی سیکورٹی واپس لے کر ا سے کم سطح ،خاص طور پر بی ایس ای پی ہاؤس گارڈز، بلیٹ پروف گاڑی اور اسکورٹ تک محدود کر دیا ہے۔ جواب میں رابڑی دیوی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ، 10 سرکولر روڈ پر تعینات تمام سکیورٹی اہلکاروں کو واپس کر دیا ہے، جبکہ تیجسوی یادو نے بھی اپنی وائی پلس سیکورٹی واپس کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی رابڑی دیوی کو رہائش گاہ خالی کرنے کا نوٹس بھی جاری ہوا ہے، جس سے سیاسی ٹکراؤ مزید شدت اختیار کر گیا۔
حکومت کا موقف ہے کہ سیکورٹی کی سطح کا تعین موجودہ خطرے کے جائزے (تھریٹ اسسمنٹ) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ سابق عہدیداروں کی سیکورٹی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے اور اسے ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ نئی ترتیب میں بھی رابڑی دیوی اور لالو پرساد کو خاص حفاظتی دستے (ایس ایس جی) کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں ہاؤس گارڈز، خواتین اہلکار اور بلیٹ پروف گاڑیاں شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ذاتی نہیں بلکہ روٹین ریویو کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب راجد نے اسے سیاسی انتقام اور اپوزیشن کو ذلیل کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان شکتی سنگھ یادو اور دیگر رہنماؤں کا الزام ہے کہ پہلے رہائش گاہ کو خالی کرنے کا دباؤ، پھر سیکورٹی میں کٹوتی، یہ سب بی جے پی کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔ رہنماؤں نے نشاندہی کی ہے کہ غیر رجسٹرڈ تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار کو زیڈ پلس سطح کی سیکورٹی حاصل ہے، جبکہ دو سابق وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مختلف معیار اپنایا جا رہا ہے۔ تیجسوی یادو اور روہنی آچاریہ نے بھی ا س فیصلے کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر خاندان کے کسی فرد کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوگی۔
ظاہر ہے، قانون کی حکمرانی میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ آئین کے تحت ہر شہری، چاہے وہ سابق وزیراعلیٰ ہو یا عام شہری ہو، کو بنیادی حقوق حاصل ہیں، جن میں جان و مال کا تحفظ بھی شامل ہے۔ سیکورٹی کا تعین سیاسی تناظر کی بجائے حقیقی خطرے کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ اگر ایک سابق وزیراعلیٰ کو زیڈ پلس سیکورٹی سے کم سطح پر لایا جاتا ہے تو اس کا شفاف جوازبھی عوام کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح، اگر آر ایس ایس سربراہ کو زیڈ پلس سیکورٹی ملی ہے تو اس کے اصول اور معیار بھی واضح ہونے چا ہئیں ۔ مساوی معیار کا نفاذ جمہوریت کی بنیاد ہے۔
تاہم، سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف سے بھی ذمہ داری کے کچھ تقاضے ہیں ۔ آئینی حقوق کے ساتھ آئینی فرائض بھی اہم ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ریاست کے وسائل کا احترام کرنا چاہئے اور سیاسی اختلافات کو جمہوری طریقوں سے حل کرنا چاہئے۔ بہر حال یہ واقعہ بہار کی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور بداعتمادی کو منعکس کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت کو اپنے فیصلوں میں شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہئے، وہیں اپوزیشن کو بھی سازش کی بجائے حقائق پر مبنی تنقید کرنی چاہئے۔ دونوں فریقوں کو قانون کی بالادستی، مساوی حقوق اور عوامی فلاح کی ترجیحات کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
بہار جیسی ریاست میں، جہاں سماجی ہم آہنگی اور ترقی کی شدید ضرورت ہے، سیاسی ٹکراؤ کو ذاتی اور خاندانی سطح تک لے جانا نقصان دہ ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ چھوٹے بڑے سب شہری برابر ہوں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس اصول پر عمل کر کے مثال قائم کرنی چاہئے۔ سیکورٹی جیسے حساس معاملے کو سیاسی اسکورنگ کا ذریعہ بنانے کے بجائے، تمام فریقوں کو مل بیٹھ کر ایک شفاف پالیسی وضع کرنی چاہئے، جو خطرے کے حقیقی جائزے پر مبنی ہو اور کسی کو بھی امتیازی سلوک کا احساس تک نہیں ہو۔بلا شبہ صرف اسی صورت میں عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور بہار کی سیاست صحت مند راستے پر آ گے بڑھ سکتی ہے۔
********

