جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگچک کی صحت بگڑنے کا دعویٰ ،حامیوں نے حکومت سے دخل کا مطالبہ کیا

تاثیر 4 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 4 جولائی:دہلی کے جنتر منتر پر پچھلے سات دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ماہر ماحولیات سونم وانگچک کے حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔ حامیوں کے مطابق، انہوںنے بھوک ہڑتال کے دوران تقریباً 5.5 کلو گرام وزن کم کیا ہے اور ان کا بلڈ پریشر معمول سے بہت نیچے چلا گیا ہے، جس سے ان کی صحت کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا مہم: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سونم وانگچک نے تقریباً 5.5 کلو گرام وزن کم کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی شوگر لیول اور بلڈ پریشر معمول سے بہت کم ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔
ابھیجیت دیپکیکے مطابق سونم وانگچک نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا انشن جاری رکھیں گے جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے یا حکومت انہیں ان کے عہدے سے ہٹا نہیں دیتی۔
وانگچک کے حامیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے درمیان انہیں کوئی نقصان پہنچا تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کرکے معاملے کا حل تلاش کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔