تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران/واشنگٹن/نئی دہلی : امریکہ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ وہاں ناکہ بندی شروع کی جائے گی ۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں حملوں کا تیسرا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ایران نے بندر عباس، کیش، قشم اور ابو موسیٰ جزائر کے بندرگاہی شہر میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران میں فوجی کارروائی پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ تہران نے امریکی علاقائی اتحادیوں پر حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے دو ٹینکروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کہا کہ ایرانی میزائلوں نے بحیرہ عمان میں اس کے ٹینکر کو نشانہ بنایا جس سے عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا۔ متوفی ملاح کی شناخت ہندوستانی شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں اپنے ملاح کی ہلاکت پر ایران کے ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کیا۔
سی این این، سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق سینٹ کام نے کہا کہ یہ حملوں کی تیسری رات تھی۔ امریکی افواج نے ایران کے کئی علاقوں پر حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ میزائل اور ڈرون سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے بندر عباس کے بندرگاہی شہر اور کیش، قشم اور ابو موسی کے جزیروں پر دھماکوں کی اطلاع دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ٹوٹ گئی ہے۔ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی منگل کو شام 4 بجے (مشرقی وقت کے مطابق) دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

