مانسون سیشن پر رہے گی سب کی نظر

تاثیر 16 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  پارلیمنٹ کا مانسون سیشن دو دن بعدیعنی 20 جولائی سے شروع ہو رہا ہے، جو 13 اگست تک چلے گا۔ یہ سیشن محض روٹین کارروائی کا نہیں بلکہ اہم قانون سازی، سیاسی ہلچل اور آئینی تبدیلیوں کا موسم ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے جو اہم بل پیش کیے جا رہے ہیں، ان کا دائرہ کار ملک کی انتخابی سیاست، ریزرویشن، وفاقی ڈھانچے اور اقتدار کے توازن کو تبدیل کرنے والا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن بے روزگاری، مہنگائی، نیٹ پیپر لیک اور عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے۔ حالیہ پارلیمانی ارکان کی پارٹی تبدیلیوں نے این ڈی اے کو مضبوط کیا ہے جبکہ انڈیا بلاک نسبتاََ کمزور ہوا ہے۔
بجٹ سیشن (اپریل، 2026) سے اب تک پارلیمانی تانے بانے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ لوک سبھا میں این ڈی اے کی طاقت 293 سے بڑھ کر 319 ہو گئی ہے۔ ٹی ایم سی کے 20 اور شیوسینا (یو بی ٹی)  کے 6 ارکان کے انحراف، ڈی ایم کے اورکانگریس اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ اور دیگر عوامل نے حکومت کو دو تہائی اکثریت (تقریباً 360 ووٹس) کے قریب پہنچا دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں بھی این ڈی اے  151 ارکان کے ساتھ پہلے سے مضبوط ہوا ہے۔ظاہر ہے یہ اکثریت حکومت کو آئینی ترامیم کرنے میں معاون ہوگی ، جو اس کے ایجنڈے کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
حکومت کے اہم بلز میں خواتین ریزرویشن بل (ناری شکتی وندن)، جو 33 فیصد نشستوں کے تحفظ سے متعلق ہے اور ڈِلیمیٹیشن  کے بعد نافذ ہونے والا ہے ، سب سے اہم ہے۔ ڈِلیمیٹیشن بل سب سے زیادہ  متنازع بھی ہے۔ 2026 کی مردم شماری کے بعد لوک سبھا اور اسمبلیوں کی نشستوں کا نئے سرے سے تعین جنوبی ریاستوں (تمل ناڈو، کرناٹک، کیرالہ وغیرہ) میں شدید مخالفت کا باعث بن سکتا ہے۔ جنوبی ریاستیں آبادی کنٹرول میں کامیاب رہی ہیں ، اس وجہ سے مانا جا رہا ہے کہ ڈِلیمیٹیشن بل کی وجہ سے شمالی ریاستوں کو فائدہ ہوگا، جس سے وفاقی توازن متاثرہو سکتا ہے۔
ون نیشن ،ون الیکشن (129ویں آئینی ترمیم) بھی اہم ہے۔ اس سے انتخابی اخراجات کم ہوں گے اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ختم ہوں گی، مگر اپوزیشن اسے وفاقیت پر حملہ قرار دے رہی ہے۔ایف سی آر اے ترمیم بل سے این جی اوز اور مذہبی اداروں پر غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی بڑھے گی ۔ 130ویں آئینی ترمیم بل کے تحت سزا یافتہ وزراء اور وزیراعظم 30 دن میں عہدہ چھوڑنے کےپابند ہوں گے۔ دیگر بلز میں تعلیم، اینٹی ڈوپنگ اور سپریم کورٹ ججوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔
اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس، ان بلز کی پر زور مخالفت کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کی زیر صدارت ہو ئی ایک اہم میٹنگ کے بعد سینئر لیڈر راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے واضح کیا ہے کہ ڈِلیمیٹیشن ، ون نیشن ون الیکشن، ایف سی آر اے اور دیگر بلز کی مخالفت کی جائے گی۔ اپوزیشن بے روزگاری، مہنگائی ، پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اورنیٹ پیپر لیک جیسے عوامی مسائل اٹھائے گی۔حالانکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ بلز اصلاحات، خواتین بااختیاری، شفافیت اور قومی یکجہتی کے لئے ضروری ہیں۔جبکہ اپوزیشن انہیں اکثریتی بالادستی اور وفاقی ڈھانچے کی کمزوری قرار دے رہی ہے۔اس سیشن میں ممکنہ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر لوک سبھا سیکریٹریٹ نے َ اراکین پارلیمنٹ کے لئے اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ سیشن کے دوران سمارٹ واچ، سمارٹ چشمہ جیسے ڈیوائسز کے استعمال سے منع کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی، پرائیویسی اور پارلیمانی اقدار کا تحفظ ہو۔ پوسٹرز، بینرز، اے آئی  جنریٹڈ مواد، دھرنا اور نعرہ بازی وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بہر حال دو دن بعد سے شروع ہونے والا مانسون سیشن نہ صرف قانون سازی بلکہ جمہوری اعتبار سے بھی اہم ہے۔ اگر حکومت اپنے بلز کو دانشمندانہ طریقے سے پیش کرتی ہے اور اپوزیشن کی آواز کو جگہ دیتی ہے تو یہ سیشن قومی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر سیاسی کشمکش غالب آئی تو عوامی مسائل پس پشت چلے جائیں گے۔ بھارت جیسی بڑی جمہوریت میں اکثریت کی طاقت کے درمیان  اقلیت کی آواز کا احترام ضروری ہے۔یہ وقت ہے کہ تمام فریق ملکی مفاد کو اپنے سیاسی فائدے سے بالاتر رکھیں۔ملک کے عوام توقع رکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بحث و مباحثے کا مرکز بنے، نہ کہ صرف اکثریت کی طاقت کےمظاہرے کا۔ اس لحاظ سے اس بارکےمانسون سیشن کی کارروائیوں پر سب کی نظر مرکوز رہنے والی ہے۔
*******************