بانکی پور ضمنی انتخاب: بہار کی سیاست کا آئینہ

تاثیر 28 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ملک بھر میں سیاسی طور پر نسبتاََسب سے زرخیز ریاست بہار میں صرف ایک نشست بانکی پور(پٹنہ) پر ضمنی انتخاب ہو رہا ہے، مگر  چناوی منظر بالکل عام انتخابات جیسا ہے۔اس میں قومی سطح پر چھ قد آور رہنماؤں کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اس اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے لئے ووٹنگ کل 30 جولائی کو ہوگی ۔چنانچہ کل شام کو پرچار مہم ختم ہو چکی ہے۔ اس انتخاب کو لیکر پٹنہ کی سڑکوں پر گزشتہ پندرہ دنوں میں جو منظر دیکھا گیا وہ گویا عام اسمبلی یا لوک سبھا انتخابات جیسا تھا۔ مرکز اور ریاست کے بڑے بڑے رہنما  سڑکوں سے لیکر گلی کوچوں تک  خاک چھانتے نظر آئے۔مانا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک ضمنی انتخاب نہیں بلکہ بہار کی موجودہ سیاسی صورت حال کی تازہ تصویر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی داؤ پر بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کی ساکھ ہے۔انھوں نے یہ نشست راجیہ سبھا جانے کے بعد خالی کی تھی۔گزشتہ 31 سال سے یہ سیٹ ان کے اور ان کے والد نوین کشور پرساد سنہا کا ناقابل تسخیر قلعہ رہی ہے۔ نتن نوین خود مسلسل یہاں پرچار کر تے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی کا امیدوار ہی بازی مارے گا۔ ان کے لئےیہ نشست صرف ایک سیٹ نہیں ہے بلکہ اس سے پارٹی کے قومی صدر کی حیثیت سے ان کی پارٹی اور ان کے خاندان کا وقارجڑا ہوا ہے۔ دوسری طرف جن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور خود میدان میں ہیں۔ وہ واحد امیدوار ہیں ،جن کی قومی ساکھ براہ راست جیت یا ہار سے وابستہ ہے۔ اپنی چناوی حکمت عملی سےنریندر مودی کو وزیراعظم بنانے کا دعویٰ کرنے والے پرشانت کے لئے یہ پہلا الیکشن ہے، جس میں بذات خود وہ امیدوار ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جیت کے سارے خارجی عوامل ان کے حق میں ہیں۔چنانچہ اگر وہ جیت گئے تو بہار کی سیاست کا روایتی چہرہ بدل سکتا ہے ، اور اگر ہار گئے تو پھر ان کے حوالے سے یہ کہا جائے گا کہ انہوں نے این ڈی اے کے سارے بڑے رہنماؤں کو ایک چھوٹی سی نشست کے لئے پٹنہ کی سر زمین پر اترنے کے لئے مجبور کر دیا۔
بہار کےوزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی ساکھ بھی اس الیکشن سے جڑی ہوئی ہے۔نتیش کمار کے بعد پہلی باران کے لئے یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ عوام میں ان کی مقبولیت ہے۔اس ضمنی انتخاب کی چناوی مہم کے دوران پرشانت کشور اور راجد نے نتیش کمار کے لئے ہمدردی اور سمراٹ چودھری کے خلاف منفی ماحول بنانے کی کوشش کی۔ اس لئے چناوی تجزیہ کار بھی بی جے پی کی فتح کو سمراٹ کی مقبولیت کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس انتخاب میںنتیش کمار نے خود بی جے پی کے امیدوار کی حمایت کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ این ڈی اے کمزور نہیں ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے لئےیہ اپنی پوزیشن کو تھوڑا بہتر کرنے کا موقع تھا، لیکن تیجسوی یادو  قدرےدیر سے میدان میں اترے۔ کل انھوں نے روڈ شو کیا اور حکومت پر بنیادی سہولیات، طلبہ تحریک اور قانون و انتطام کے مسائل اٹھائے۔ انہوں نے فتح کا دعویٰ بھی کیا اور اگرتحریکی طلبہ کے خلاف مقدمات واپس نہ لیے گئے تو احتجاج کی دھمکی بھی دی۔
چناؤ پرچار کے کل آخری دن سیٹنگ پارٹی بی جے پی اور مخالفین دونوں طرف سے مکمل طاقت جھونکی گئی۔ نتن نوین مندر درشن کے ساتھ ساتھ عوامی رابطہ کرتے رہے جبکہ تیجسوی نے تقریباً سات کلومیٹر لمبا روڈ شو کیا۔پرشانت کشور بھی اپنے انداز سے کل پورے دن لوگوں سے ملتے جلتے رہے۔ کایستھ برادری کی اکثریت والے اس چناوی حلقے میں گرچہ دو درجن سے زائد امیدوار میدان میں ہیں ، مگر اصل مقابلہ چار پانچ بڑے ناموں کے درمیان ہے۔
مانا جا رہا ہے کہ اس ضمنی انتخاب کا نتیجہ بہار کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔اگر این ڈی اے جیت جاتا ہے تو نتن نوین اور سمراٹ چودھری کی ساکھ مضبوط ہوگی اور این ڈی اے کی مضبوطی کا پیغام جائے گا۔ اگر جن سوراج یا  راجد میں سے کسی کو کامیابی ملتی ہے تو یہ این ڈی اے کے لئے تشویش کا باعث ہوگی۔ بہار کی سیاست ہمیشہ سے ذات، خاندان اور شخصیت پر مرکوز رہی ہے۔ اس ضمنی انتخاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک ادنیٰ سی سیٹ بڑے بڑے رہنماؤں کی ساکھ کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔اور اب کل 30 جولائی کو دیکھنا ہے کہ بانکی پور کے ووٹرز روایتی سیاست کا ساتھ دیتے ہیں یا جدت کو پسند کرتے ہیں۔ 30 جولائی کا نتیجہ نہ صرف بانکی پور بلکہ پورے بہار کی سیاسی سمت کا اشارہ دے گا۔