بہار میں ایک بار پھر چناوی شور

تاثیر 7 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار میں ایک بار پھر چناوی شور سنائی دینے لگا ہے۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ (182) سمیت مدھیہ پردیش کی دتیا (22) اور گجرات کی منجل پو ر (145) اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق نامزدگی 13 جولائی تک، ووٹنگ 30 جولائی اور نتائج 3 اگست کو متوقع ہیں۔ بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ کے بارے میں مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ محض ایک سیٹ کا انتخاب نہیں بلکہ بہار کی موجودہ سیاست کی سمت کو واضح کرنے والا ہے۔ نتیجہ جو بھی ہو، یہ انتخاب بی جے پی کی ساکھ، وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت، پرشانت کشور کی سیاسی قبولیت اور اپوزیشن کی حکمت عملی کی ایک ساتھ پڑتال کرے گا۔
بانکی پور سیٹ طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط قلعہ رہی ہے۔ 1995 سے نتین نوین اور ان کے والد کی وراثت یہاں قائم تھی۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں نتین نوین (اب راجیہ سبھا رکن) نے تقریباً 62.66 فیصد ووٹوں سے ریکھا گپتا کو 51,936 ووٹوں کے ما رجن سے ہرایا تھا۔ اب ان کی راجیہ سبھا منتقلی کے بعد خالی ہوئی اس سیٹ پر بی جے پی کی عزت اور سیاسی گڑھ داؤ پر ہے۔ بی جے پی اسے کسی بھی قیمت پر بچانا چاہتی ہے، جبکہ اس کی کامیابی وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے لئے بھی پہلی بڑی انتخابی آزمائش ثابت ہونے والی ہے۔
اس مقابلے میں سب سے بڑا دھماکہ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور کی انٹری ہے۔چناوی حکمت عملی کے میدان سے آگے بڑھ کرسیاست کی سرزمین پر اترنے والے پرشانت کشورنے خود امیدوار بننے کا اعلان کر کے اس ضمنی انتخاب کو قومی سطح کی دلچسپی کا موضوع بنا دیا ہے۔ انہوں نے اسے’’حکومت کے کاموں پر ریفرنڈم‘‘ قرار دیا ہے۔ شتروگھن سنہا نے ایکس پر لکھا ہے کہ پرشانت کشور’’سب سے زیادہ قابل، دوراندیش اور عوامی لیڈرہیں، جن کی انٹری سے بہار اور ملک کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔‘‘  بہاری بابونے تمام لوگوں، خصوصاً نوجوانوں سے ذات، مذہب اور پارٹی کی حدوں سے اوپر اٹھ کر پی کے کی حمایت کی اپیل کی ہے۔
دوسری طرف، آر جے ڈی نے پرانے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ریکھا گپتا کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے۔ 2025 میں انھیں 47 ہزار ووٹ ملے تھے۔ عظیم اتحادکے اندر اب بھی کنفیوژن ہے۔ کانگریس ابھی حتمی موقف نہیں اپنا سکی ہے، جبکہ پرشانت کشور نے بغیر کسی رسمی اتحاد کے، تمام پارٹیوں سے حمایت طلب کی ہے۔ اگر عظیم اتحاد کے ووٹ تقسیم ہوئے تو بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر اپوزیشن ووٹوں کا پولرائیزیشن ہوا تو مقابلہ انتہائی دلچسپ ہو جائے گا۔
بانکی پور اسمبلی سیٹ کا انتخاب چار اہم پہلوؤں کو منعکس کرنے والا ہے۔ پہلا، بی جے پی کی تنظیمی طاقت اور نتین نوین کی وراثت  کا تحفظ۔ گرچہ پارٹی نے ابھی تک اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن بوتھ لیول پر تیاریاں جاری ہیں۔ دوسرا، پرشانت کشورکا پہلی بار براہ راست انتخابی میدان اترنا۔ اگر وہ جیت گئے تو قومی سطح پر ان کی مقبولیت مزید بڑھ جائے گی اور ’’جن سوراج پارٹی‘‘ کو نئی جڑیں ملیں گی۔ تیسرا، سمراٹ چودھری کی قیادت کی ساکھ۔ چوتھا، اپوزیشن کی حکمت عملی کہ کیا وہ بی جے پی کے خلاف متحد ہو پائے گی یا حسب روایت انتشار کا شکار رہے گی؟
بہار کی سیاست کی خصوصیت اس کا غیر متوقع طور پر بدلتا ہوا رخ ہے۔فی الحال پرشانت کشور کی انٹری نے بی جے پی کو پریشان کر دیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان دعویٰ کر رہے ہیں کہ ترقیاتی کاموں (سڑکیں، پارک، میٹرو وغیرہ ) کی بنیاد پر وہ بڑے مارجن سے جیت جائیں گے۔ جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ پرشانت کشور کی عوامی اپیل اور بدلاؤ کا بیانیہ نوجوان ووٹروں کو متاثر کر سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ضمنی انتخاب کے نتائج بہار کی سیاست کی نئی سمت متعین کریں گے۔ اگر بی جے پی جیت گئی تو اسے  اس کی طاقت اور اپوزیشن کی کمزوری کا ثبوت سمجھا جائے گا۔ پرشانت کشور کی جیت کی صورت میں بہار میں تیسری طاقت کا ابھرنا اور اپوزیشن کی نئی صف بندی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ویسے بہارکے عوام کے لئے یہ انتخاب ، اپنے رخ کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے۔اِدھر الیکشن کمیشن نے شفاف اور پرامن ووٹنگ کی تیاریاں تقریباََ مکمل کر لی ہیں۔ مانا جا رہا ہے 3.79 لاکھ ووٹروں والے اس شہری حلقے کا فیصلہ نہ صرف بانکی پور اسمبلی حلقہ بلکہ پورے بہار کی سیاسی تقدیر پر اثر انداز ہونے والا ہے۔
********