مغربی بنگال میں یو سی سی کے نفاذ کی تیاری

تاثیر 12 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  مغربی بنگال میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی تیاری جاری ہے۔ریاستی حکومت نے متعلقہ مسودے کے جائزے کے لئے سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں نو رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل کی ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ کمیٹی شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور دیگر سول معاملات پر غور کرتے ہوئے مختلف طبقات سے مشاورت کرے گی اور رپورٹ پیش کرے گی۔ بی جے پی کی قیادت والی حکومت اسے سماجی انصاف اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ذریعہ قرار دے رہی ہے، جبکہ مخالفین اور متاثرین اسے ملک کے اقلیتی طبقات کے ذاتی قوانین میں صریح مداخلت سمجھتے ہیں۔
یہ پیش رفت اتراکھنڈ، گجرات اور آسام کے بعد بنگال کو چوتھی ریاست بنانے والا قدم ہے، جہاں جلد یو سی سی کے نفاذ کا امکان ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون مذہب، برادری یا عقیدے سے قطع نظر تمام شہریوں کے لئے یکساں حقوق یقینی بنائے گا۔ تجاویز میں تعددِ ازدواج پر پابندی، مرد و زن کو وراثت میں مساوی حقوق، بالغ شادی کی حوصلہ افزائی اور لیو اِن ریلیشن شپ کے ریگولیشنس شامل ہیں۔ آدی واسی اور قدیم قبائلی طبقات کو ممکنہ استثنیٰ دیے جانے کی تجویز اس میں شامل ہے۔ ظاہر ہے، اس کو لیکر مسلم کمیونٹی سمیت دیگر اقلیتی طبقات میں زبردسست تشویش ہے۔
بھارت جیسے کثیر المذاہب ملک میں ذاتی قوانین (پرسنل لاء) مذہبی آزادی کا اہم جزو رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مذہبی اداروں کا موقف ہے کہ شریعت کے تحت طلاق، وراثت اور خاندانی معاملات اللہ کے احکامات پر مبنی ہیں۔ ان میں یکساں سول کوڈ کی مداخلت سے مذہبی خودمختاری متاثر ہو گی اور یہ آئین کے آرٹیکل 25-26 کے تحت ضمانت دی گئی مذہبی آزادی کے لئے چیلنج ہو گا۔ مسلمانوں کا خدشہ ہے کہ یہ قانون ان کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو کمزور کرے گا، خاص طور پر جب ملک بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہے اور اقلیتی طبقات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔
حکومت کی طرف سے خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ، بعض روایتی رسومات میں خواتین کے ساتھ ناانصافی کے واقعات موجود ہیں، جن پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا یہ اصلاحات اندرونی طور پر، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی کی مشاورت سے نہیں کی جا سکتیں؟ یکساں کوڈ کا نفاذ اگر اوپر سے مسلط کیا گیا تو یہ اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دے گا۔ پچھلے تجربات، جیسے سی اے اے اور این آر سی سے یہ واضح ہو چکا ہےکہ ایسے اقدامات کس طرح سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ریاست میں اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز بل کا پاس ہونا بھی باعث تشویش ہے۔اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز بل، پولیس کو بغیر مقدمے کے 12 ماہ تک احتیاطی حراست کا اختیار دیتا ہے۔ دنگوں کی روک تھام کا مقصد قابلِ ستائش ہے، مگر اس کا غلط استعمال اقلیتوں اور مخالف آوازوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی اسے اپنے چناوی ایجنڈے کا حصہ مانتی ہے ، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔
بنگال کی تاریخ ہمیشہ سے ثقافتی تنوع، رواداری اور گنگا-جمنی تہذیب کی علامت رہی ہے۔ یہاں ہندو، مسلم، عیسائی اور آدیواسی برادریاں صدیوں سے شانہ بشانہ رہتی آئی ہیں۔ ریاستی حکومتوں کے اس طرح کے اقدامات ملک کے تہذیبی تنوع اور ثقافتی رنگا رنگی کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس کا مکمل اندازہ شاید بعد میں ہو گا۔ بھارت کی طاقت اس کی کثیر الثقافتی شناخت میں ہے۔ اگر ذاتی قوانین کو یکساں کرنے کی کوشش اس تنوع کو ختم کرنے کا ذریعہ بن گئی تو یہ نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے ملک کے حق میں نہیں ہوگا۔
کمیٹی کو چاہئے کہ وہ تمام متعلقہ فریقوں، مذہبی رہنماؤں، خواتین تنظیموں اور اقلیتی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ کوئی بھی قانون تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ عوامی اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی نہ ہو۔ ایسے میں حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ سماجی اصلاحات کا بہترین راستہ جبر نہیں بلکہ اتفاق رائے ہے۔ مسلمان کمیونٹی کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اندر اصلاحات پر توجہ دے اور قانونی و جمہوری طریقوں سے اپنے آئینی حقوق کی حفاظت کرے۔بنگال کی سرزمین رواداری کی مثال ہے۔ یقین کیا جانا چاہئےکی یکساں سول کوڈ کے مسودے کےجائزے اور معقول تجاویز پیش کرنے کے لئے تشکیل پذیر نو رکنی کمیٹی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئےایسی رپورٹ پیش کرے گی ،جو تمام شہریوں کے حقوق کومحفوظ اور ملک کی وحدت کو سلامت رکھے گی۔
********