سپریم کورٹ نے 24 گھنٹے عدالتیں چلانے کی مانگ پر تمام ہائی کورٹس کو نوٹس جاری کیا

تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 14 جولائی:سپریم کورٹ نے لوگوں کے حقوق اور ذاتی آزادی سے جڑے معاملات پر ملک بھر کی عدالتوں میں چوبیسوں گھنٹے غور کرنے کی مانگ والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ نوٹس جاری کیا۔

یہ عرضی ایڈووکیٹ مہراوش رین نے دائر کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اکثر شہریوں کو رات کے وقت گرفتار کر لیا جاتا ہے یا صبح سویرے (مکانات و دکانیں وغیرہ) منہدم کر دیے جاتے ہیں۔ کارروائی ہفتے کے آخری دنوں (ویک اینڈ) میں کی جاتی ہے تاکہ اس دوران آئینی عدالتیں بند رہیں۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں جب عدالتیں بند ہوتی ہیں اور شہریوں کی ذاتی آزادی چھینی جا رہی ہوتی ہے تو ایک شہری بے بس ہو جاتا ہے، اس لیے عدالتوں میں کام کے گھنٹے بڑھانا اور محدود شکل میں تعطیلاتی بنچ (وکیشن بنچ) تشکیل دینا ضروری ہے۔

عرضی میں مانگ کی گئی ہے کہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات میں وقت پر انصاف ملے، اس کے لیے رہنما خطوط جاری کیے جائیں۔