تاثیر 7 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کی جانب سے دربھنگہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی گئی۔ تنظیم کے قومی صدر اور جنتادل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما نظرعالم نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے آئین کی طرف سے عطا کردہ مذہبی اور تعلیمی حقوق کی روح کے خلاف ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنا یہ فیصلہ واپس لے۔انہوں نے کہا کہ مدارس نے ہمیشہ تعلیم، اخلاقی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قومی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط، معیاری اور جدید بنانے کی سمت میں اقدامات کیے جانے چاہئیں۔نظر عالم نے کہا کہ ہندوستان کی پہچان گنگا جمنی تہذیب، باہمی بھائی چارہ اور تمام مذاہب کے احترام سے ہے۔ آئین ہند ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی تعلیمی درسگاہیں چلانے کا حق دیتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی طبقے کے آئینی حقوق پر ضرب لگانا جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت اور اترکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر ازسرِنو غور کرے، کیونکہ تعلیم اور سماجی ہم آہنگی جیسے حساس معاملات میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کا احترام ہی ملک کے مفاد میں ہے۔پریس کانفرنس میں مولانا مہدی رضا روشن القادری، بیداری کارواں کے دربھنگہ ضلع صدر اشرف احمد، مولانا بشیرالہدیٰ قادری، ماسٹر صادق حسین سمیت تنظیم کے متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔

