تاثیر 31 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے کردار سامنے آتے ہیں، جو اپنی ظاہری حیثیت سے نہیں، بلکہ اپنے فکر و شعور کی روشنی سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ نہ تو بڑے تعلیمی اداروں کی سند رکھتے ہیں، نہ اقتدار کے ایوانوں تک ان کی رسائی ہوتی ہے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کی سرپرستی انہیں میسر آتی ہے، لیکن ان کی سچی آواز معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ دہلی کی ایک جھگی بستی میں رہنے والے مزدور نوجوان محمد عرفان کا نام آج اسی حوالے سے زبان زدِ عام ہے۔ ان کی گفتگو نے اس دیرینہ تصور کو چیلنج کیا ہے کہ علم و آگہی صرف اعلیٰ ڈگریوں اور متمول طبقات کی میراث ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ رسمی تعلیم انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد شعور، کردار، فکر اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔ اگر ڈگریاں اس شعور سے خالی ہوں تو وہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا رہ جاتی ہیں، جبکہ مطالعہ، مسلسل جستجو اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات ایک عام انسان کو بھی غیر معمولی بصیرت عطا کر سکتے ہیں۔ محمد عرفان کی شخصیت اسی حقیقت کی روشن دلیل ہے۔
ان کی گفتگو میں نہ خطیبانہ تصنع ہے، نہ الفاظ کی نمائش؛ بلکہ ایک مزدور کی زندگی کے تجربات، مسلسل مطالعے کی روشنی اور سماجی احساس کی حرارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ دل سے نکلتے ہیں اور دلوں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ غربت ذہانت کی دشمن نہیں، اور محرومی انسان کی سوچ کو قید نہیں کر سکتی۔ اصل دولت سیکھنے کی لگن، سچ کی تلاش اور اپنے معاشرے سے مخلصانہ وابستگی ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد معلومات کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی علم کی پیاس سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہار کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں اس نے وقت کے ضیاع، سطحی مباحث اور غیر ضروری مصروفیات کا ایک ایسا طوفان بھی کھڑا کر دیا ہے، جس میں مطالعے کی عادت، سنجیدہ فکر اور قومی مسائل پر غوروفکر بتدریج کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر اپنے معاشرے، آئین، تاریخ اور شہری ذمہ داریوں سے واقفیت پیدا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ایسے ماحول میں محمد عرفان کی مثال امید کی ایک روشن کرن ہے۔ وہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کی اصل درسگاہ اس کا شوقِ علم، اس کی جستجو اور اس کا کردار ہے۔ اگر ایک مزدور، جو دن بھر محنت کرتا ہے، اپنی محدود فرصت میں مطالعہ کر کے سماجی اور قومی مسائل کی ایسی تفہیم حاصل کر سکتا ہے تو بہتر تعلیمی اداروں، جدید ذرائع اور بے شمار سہولتوں سے آراستہ نوجوان اس سے کہیں زیادہ مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان کے اندر سیکھنے کا جذبہ زندہ ہو اور اپنی ذات سے بلند ہو کر معاشرے کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت پیدا ہو۔
یقیناً کسی بھی شخصیت کے ہر خیال سے اتفاق ضروری نہیں ہوتا، اور نہ ہی یہ کسی صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن اور فکری ارتقا کا ذریعہ ہے۔ لیکن کسی انسان کی خود آموزی، محنت، دیانت اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کو نظرانداز کرنا بھی دانش مندی نہیں ہے۔ محمد عرفان کی اصل اہمیت ان کے خیالات سے زیادہ اس سفر میں مضمر ہے ،جو انہوں نے نامساعد حالات کے باوجود طے کیا۔ انہوں نے اپنے حالات کو اپنی تقدیر نہیں بنایا بلکہ اپنی تعمیر کا وسیلہ بنا لیا، اور یہی وصف انہیں قابلِ احترام بناتا ہے۔
آج ہمارے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، اہلِ قلم اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل میں کتاب دوستی، مطالعے کی ثقافت، تنقیدی فکر، آئینی شعور اور سماجی ذمہ داری کا احساس بیدار کریں۔ قوموں کی ترقی صرف جدید عمارتوں، ٹیکنالوجی یا معاشی اشاریوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ ان کے نوجوان کس قدر باشعور، باکردار، باخبر اور ذمہ دار ہیں۔
محمد عرفان کی کہانی کسی ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ روشنی ہمیشہ بلند میناروں ہی سے نہیں پھوٹتی؛ کبھی وہ ایک جھگی کے چراغ سے بھی پورے معاشرے کو منور کر دیتی ہے۔ اگر آج کا نوجوان ان کے عزم، خود اعتمادی، مسلسل مطالعے، سماجی حساسیت اور خود آموزی کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو یقیناً وہ نہ صرف اپنی تقدیر سنوار سکتا ہے بلکہ قوم کے مستقبل کو بھی نئی سمت عطا کر سکتا ہے۔ یہی ہماری آج کی اس گفتگو کا اصل سبق ہے اور یہی ہمارے عہد کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔
*****

