زمینی تنازعہ میں مارپیٹ کے بعد 65 سالہ بزرگ کی موت، دو ملزمان حراست میں

تاثیر 29 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ) سمری تھانہ علاقہ کی بھراٹھی پنچایت کے بھروارہ ٹول، وارڈ نمبر 13 میں جمعہ کی شام زمینی تنازع کو لے کر دو فریقوں کے درمیان تنازع ہوگیا۔ اس دوران ہوئی مارپیٹ کے بعد آنجہانی یدونندن سہنی کے 65 سالہ بیٹے امیری سہنی کی موت ہوگئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا۔ پولیس نے معاملے میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے متوفی کی بیٹی وِملا دیوی نے پولیس کو بتایا کہ سال 2025 میں ان کے والد نے گاؤں کے ہی سریش سہنی سے زمین خریدی تھی۔ الزام ہے کہ مذکورہ زمین کو سریش سہنی کے بھائی کے بیٹے منچن سہنی، راجا سہنی اور گڈو سہنی خالی نہیں کر رہے تھے۔ جمعہ کی شام تقریباً سات بجے اسی تنازع کو لے کر تینوں گھر آئے اور گالی گلوچ کرنے لگے۔ مخالفت کرنے پر مارپیٹ شروع ہوگئی اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس وقت امیری سہنی گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ تنازع کے دوران انہیں دھکا دے دیا گیا، جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور ان کی موت ہوگئی واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی۔ کمتول ایس ڈی پی او-2 ایس کے سمن اور سمری تھانہ صدر اروند کمار پولیس فورس کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے اور معاملے کی معلومات حاصل کی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
تھانہ صدر اروند کمار نے بتایا کہ واقعہ کے بعد راجا سہنی اور گڈو سہنی کو پولیس حراست میں رکھا گیا ہے۔ درخواست موصول ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرکے مزید کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بزرگ کی موت کن حالات میں اور کس وجہ سے ہوئی، اس کی واضح تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوگی۔
وہیں، مقامی باشندوں اور پڑوسیوں کے مطابق امیری سہنی طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔ دیہاتیوں نے بتایا کہ تنازع کے دوران دونوں فریقوں کی خواتین کے درمیان بھی مارپیٹ ہوئی تھی۔ مارپیٹ کے واقعہ سے خوفزدہ ہونے کے بعد بزرگ کی طبیعت بگڑنے اور موت ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔واقعہ کے بعد متوفی کے اہل خانہ میں غم کا ماحول ہے۔ اہلیہ ارمیلا دیوی سمیت دیگر اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے