تاثیر 20 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن[
کولکاتا، 20 اگست : ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے ذاتی بینک اکاؤنٹ کو منجمد کیے جانے کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے متعلقہ بینک کو سخت پھٹکار لگائی۔ جمعرات کو معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس کرشن راؤ نے سوال اٹھایا کہ جب آن لائن کے وائی سی کی سہولت دستیاب ہے تو ابھیشیک بنرجی کو اس کے لیے ذاتی طور پر بینک کیوں بلایا گیا۔
ابھیشیک بنرجی کی جانب سے وکیل ایان بھٹاچاریہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کا بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دو کریڈٹ کارڈ بھی بلاک کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں کوئی واضح معلومات نہیں دی گئی۔ بینک سے رابطہ کرنے پر کے وائی سی کرانے کی بات کہی گئی، جبکہ ابھیشیک کا کے وائی سی دسمبر 2026 میں ختم ہونے والا ہے۔
ان دلائل کے بعد جسٹس کرشن راؤ نے بینک سے سوال کیا کہ جب اب آن لائن کے وائی سی کی سہولت دستیاب ہے اور سرکاری ملازمین کے لیے بھی یہ عمل آن لائن ہو رہا ہے تو ابھیشیک کو کے وائی سی کے لیے بینک کیوں بلایا گیا۔ انہوں نے تبصرہ کیا، ’’کیا بینک ابھیشیک بنرجی کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے؟‘‘
عدالت نے کے وائی سی کے لیے بینک کی جانب سے ابھیشیک کو بھیجے گئے خط کی زبان پر بھی اعتراض کیا۔ جسٹس راؤ نے سوال کیا کہ کیا کسی صارف کو اس طرح کا خط بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بینک کو جلد از جلد مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی اور واضح کیا کہ اس کے لیے مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

