طلبہ کے جائز مطالبات اورحکومت کی نرمی

تاثیر 17 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں طلبہ کا طویل احتجاج محض ایک امتحان منسوخ کرانے کی جدوجہد نہیں ہے۔ یہ ریاست کے ریکروٹمنٹ ایگزامنیشن سسٹم پر اعتماد کی بحالی کا مطالبہ ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج، بھوک ہڑتال اور مسلسل مذاکرات نے حکومت  کے سامنے مشکل کھڑای کردی ہے۔ آخرکار حکومت نے 14ویں جے پی ایس سی امتحان کو منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ساتھ ہی متنازع امتحانات کی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ احتجاج کرنے والے طلبہ کی ایک بڑی کامیابی ضرور ہے۔ لیکن اصل سوال اب شروع ہوتا ہے۔ امتحان منسوخ کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اب حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آئندہ امتحانات شفاف، قابل اعتماد اور سیاسی مداخلت سے پاک ہوں گے۔ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ایگزامنیشن سسٹم محض انتظامی کارروائی نہیں، در اصل یہ ریاستی اداروں کی ساکھ کا معاملہ ہے۔
حکومت کی جانب سے نجی ٹسٹنگ ایجنسی ٹی ڈی پی ایل کے ذریعے کرائے گئے امتحانات او رجے ایس ایس سی – سی جی ایل  معاملے کی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان اہم قدم ہے۔ اگر بے ضابطگی، مالی بدعنوانی یا کسی منظم سازش کے شواہد ملتے ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہئے۔ لیکن تحقیقات کا اعلان کافی نہیں ہے۔ اس کی غیر جانب داری، رفتار اور نتیجہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ حکومت نے 90 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اس وعدے کو عملی شکل دینا ضروری ہوگا۔جے ایس ایس سی – سی جی ایل کا معاملہ مزید حساس ہے۔ اس سے وابستہ امیدواروں کی تقرری اور سپریم کورٹ سے جڑے قانونی پہلو موجود ہیں۔ اس لئے حکومت کو جذباتی فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا۔ بے قصور امیدواروں کے مفادات کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قصورواروں کو سزا دینا۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ کسی اجتماعی سزا کی راہ اختیار نہ کی جائے۔
طلبہ کے احتجاج کے دوران کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو بھیجا گیا خط بھی سیاسی اعتبار سے اہم ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے خود مظاہرین سے ملاقات کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ مشورہ محض سیاسی دباؤ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ بحران کے وقت براہ راست مکالمہ اعتماد بحال کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ذاتی سطح پر طلبہ سے ملاقات حکومت کے ارادے کو واضح کر سکتی ہے۔تاہم راہل گاندھی کے خط میں آر ایس ایس اور بی جے پی پر لگائے گئے الزامات اس بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹا سکتے ہیں۔امتحانات میں بدعنوانی کا مسئلہ کسی ایک جماعت یا نظریے تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ طلبہ کے مستقبل کو سیاسی بیان بازی سے اوپر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے غصے کو سیاسی فائدے کے بجائے اصلاحات کی طاقت بنائیں۔
جھارکھنڈ حکومت نے 2023 میں انسدادِ پرچہ لیک قانون منظور کیا تھا۔ اب اس قانون کی افادیت عملی طور پر دکھانے کا وقت  آگیاہے۔ سخت قانون تبھی مؤثر ہوگا جب اس پر بلا امتیاز عمل ہو۔ ٹسٹنگ ایجنسیوں کی جواب دہی طے ہو۔ نگرانی کا نظام مضبوط ہو۔ ڈیجیٹل سکیورٹی بہتر بنائی جائے۔ شکایات کے ازالے کا تیز اور شفاف طریقہ بھی اپنایا جائے۔
رانچی کا احتجاج حکومت کے لئے ایک انتباہ ہے۔ نوجوان صرف نوکری نہیں مانگ رہے ہیں۔ وہ منصفانہ اور شفاف ریکروٹمنٹ ایگزامنیشن سسٹم کی مانگ رہے ہیں۔ ریاست اگر اس اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو موجودہ بحران ایک مثبت اصلاح کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ لیکن اگر وعدے کاغذ تک محدود رہے تو آج کی کامیابی کل کے بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ اب حکومت کے سامنے اصل امتحان 14ویں جے پی ایس سی کا نہیں، اعتماد کا امتحان ہے۔
رانچی کا طلبہ احتجاج حکومت کے لئے محض امتحان کی منسوخی کا معاملہ نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کا چیلنج ہے۔ 14ویں جےپی ایس سی امتحان کی منسوخی، سی آئی ڈی تحقیقات اور کارروائی کا 90 روزہ ہدف ابتدائی اقدامات ہیں۔ اصل کامیابی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور بے قصور امیدواروں کے مفادات کے تحفظ میں مضمر ہے ۔چنانچہ حکومت کو سیاسی بیان بازی سے بالاتر ہوکر مستقل اور قابل اعتماد ایگزامنیشن سسٹم کو یقینی بنانا ہوگا۔
*************