تاثیر 19 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور: (نزہت جہاں)
شمالی بہار کے اہم شہر مظفرپور کو ریاستی دارالحکومت پٹنہ سے تیز رفتار اور جدید ریل رابطے سے جوڑنے کی تیاری تیز ہو گئی ہے۔ مجوزہ نمو بھارت ریپڈ ریل سروس شروع ہونے کے بعد دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہونے کی امید ہے۔ اس سے روزانہ پٹنہ آنے جانے والے طلبہ، کاروباری افراد، ملازمین اور مریضوں کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔ مظفرپور اور پٹنہ کے درمیان روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔ فی الحال کئی ایم ای ایم یو، میل اور ایکسپریس ٹرینوں کے علاوہ سرکاری و نجی بسیں بھی چلتی ہیں، لیکن سفر میں عموماً ڈھائی سے تین گھنٹے تک کا وقت لگ جاتا ہے۔ مجوزہ نمو بھارت ریپڈ ریل 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ منصوبے کے مطابق مظفرپور سے پٹنہ کا سفر تقریباً 60 منٹ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اسٹیشنوں پر کم وقت کے قیام کی وجہ سے بھی مسافروں کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی۔
نمو بھارت ٹرین پُش پل ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اس کے دونوں سروں پر پاور یونٹ ہونے کی وجہ سے یہ تیزی سے رفتار پکڑ سکتی ہے۔ خصوصی طور پر تیار کیے گئے ٹریک پر اس کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے نمو بھارت میں مسافروں کی سہولت اور حفاظت کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ ٹرین کے کوچ مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ ہوں گے۔ آرام دہ نشستوں، مناسب لیگ روم اور موبائل چارجنگ پوائنٹس جیسی سہولتیں بھی دستیاب ہوں گی۔
میٹرو کی طرز پر آٹومیٹک دروازے، سی سی ٹی وی کیمرے، اینٹی کولیشن سسٹم اور جدید حفاظتی ٹیکنالوجی سے ٹرین کو لیس کیا جائے گا۔ محفوظ سفر کے لیے دیسی کَوَچ ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی بات سامنے آئی ہے۔ زیادہ سہولت کا مطلب یہ نہیں کہ سفر بہت مہنگا ہوگا۔ مسافروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم کرایہ تقریباً 20 سے 30 روپے رکھنے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ فاصلے کے حساب سے تقریباً 2 سے 2.50 روپے فی کلومیٹر کی شرح کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم حتمی کرایہ اور دیگر شرائط کا فیصلہ متعلقہ حکام کی جانب سے کیا جائے گا۔
مظفرپور-پٹنہ کے علاوہ بہار کے دیگر اہم شہروں کو بھی نمو بھارت نیٹ ورک سے جوڑنے کی تیاری جاری ہے۔ گیا، بیگوسرائے اور آرا جیسے شہروں کے لیے بھی تیز رفتار ریل رابطے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔
مظفرپور-پٹنہ نمو بھارت سروس شروع ہونے سے نہ صرف دونوں شہروں کے درمیان سفر آسان ہوگا بلکہ شمالی بہار میں جدید، تیز رفتار اور آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔

