تعلیم کے ساتھ بچوں کو ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت، تاکہ کوئی بے روزگار نہ رہے: ڈاکٹر منوج کمار

تاثیر 19 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ(فضاامام):طلبہ کی جانب سے پیش کیا گیا ‘بھگت سنگھ’ کا انقلابی کردار مرکزِ توجہ رہا، اے ایس پی محمد فیض عالم نے تعلیم کی افادیت پر ڈالی پیس انٹرنیشنل اسکول بھپورہ میں  دیر رات تک جاری رہا پروگرام  دربھنگہ:  انٹرنیشنل اسکول بھپورہ کے زیرِ اہتمام ملک کا 80واں جشنِ یومِ آزادی انتہائی روایتی جوش و خروش، حب الوطنی کے جذبے اور شاندار انداز میں منایا گیا۔ اس پروقار تقریب کی صدارت معروف سائنٹسٹ ڈاکٹر منوج کمار نے کی، جبکہ تقریب کی سرپرستی اور نگرانی اسکول کے ڈائریکٹر انجینئر عظمت اللہ ابوسعید نے فرمائی۔ پروگرام کی خوبصورت نظامت کے فرائض مولانا عطاء الرحمن نے انجام دیے۔اس اہم تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے دربھنگہ کے اے ایس پی محمد فیض عالم اور ممتاز شخصیت جناب طالب حسین  کوٹک مہندرا، نینا ساہو، پروفیسر  رسول اختر ساقی ایس ایم ضیاء شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ معزز مہمانوں میں، اور مولانا عبد القادر مولانا صغیر رضا محمد زبیر وغیرہ نے خصوصی طور پر شرکت کر کے تقریب کی رونق کو دوبالا کیا۔جشنِ آزادی کی یہ پرکشش تقریب دیر رات تک جاری رہی، جس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا،اسکول کے طلبہ و طالبات نے مختلف سماجی، تعلیمی اور ثقافتی موضوعات پر اپنے اچھوتے فن کا مظاہرہ کیا۔ ثقافتی پروگراموں کے دوران اسکول کے بچوں کی طرف سے پیش کیے گئے تاریخی خاکوں میں ‘شہید اعظم بھگت سنگھ’ کا کردار سب سے اہم اور دلکش رہا۔ بچوں نے اپنی جاندار اداکاری سے تحریکِ آزادی کے اس عظیم مجاہد کی قربانیوں کو اسٹیج پر زندہ کر دیا، جس نے پورے پنڈال کو جذباتی کر دیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔اپنے صدارتی خطاب میں معروف سائنٹسٹ ڈاکٹر منوج کمار نے بچوں کی تعلیمی اور ڈرامائی صلاحیتوں کی خوب تعریف کی۔ انہوں نے ایک اہم نکتے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “آج کے دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو ہنر مند (اسکلڈ) بنانا بے حد ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی بچہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بے روزگار نہ رہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم ہونا لازمی ہے، تبھی انسان زندگی میں بہتر طور پر سروائیو (کامیاب زندگی گزار) کر سکتا ہے”۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی اے ایس پی محمد فیض عالم نے تعلیم کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے اور نئی نسل کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے بھگت سنگھ کا کردار نبھانے والے اور دیگر پروگرام پیش کرنے والے طلبہ کی زبردست حوصلہ افزائی کی۔پروگرام کے اختتام پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں (خصوصاً اہم کردار ادا کرنے والے طلبہ) اور معزز مہمانوں کو انعامات اور اعزازی نشانات سے نوازا گیا۔اس موقع پر شجر کاری بھی کی گئی تھی،تقریب میں اساتذہ، و گاؤں کے سرکردہ افراد جن میں محمد سفیان، اسرافیل، ابوالکلام، محمد وصی اللہ، محمد۔  حبیب اللہ، اقبال احمد، احسان احمد، پرنسپل، ایم ڈی۔  نورین، اساتذہ، مولانا عطاء الرحمن، دلشاد، شمی پروین، صبا پروین، رہنما پروین، نازیہ پروین، راحت پروین، حافظ رضوان، گھنشیام مشرا وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں.