سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ہی پاکستان سے معمول کے دوطرفہ تعلقات ممکن: حکومت

تاثیر 07 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 07 اگست: مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ معمول کے دوطرفہ تعلقات اسی وقت ممکن ہیں جب وہ سرحد پار دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے پاک ماحول کو یقینی بنائے۔ حکومت نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشت گردی اور اس سے وابستہ ڈھانچے کا خاتمہ بھارت کی واضح اور غیر متزلزل پالیسی ہے۔
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات صرف اسی صورت میں آگے بڑھ سکتے ہیں جب ماحول دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے پاک ہو۔ تاہم پاکستان کی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی اب بھی جاری ہے اور دہشت گردی کو بھارت کے خلاف سرکاری پالیسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ پلوامہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے پاکستان سے ‘موسٹ فیورڈ نیشن’ (ایم ایف این) کا درجہ واپس لے لیا تھا اور پاکستان سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا کر 200 فیصد کر دی تھی۔ اس کے بعد پاکستان نے بھی بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دوطرفہ تجارت معطل کرنے جیسے یکطرفہ اقدامات کیے۔