تاثیر 14 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
15 اگست محض تقویم کا ایک دن نہیں ہے۔ یہ بھارت کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے، جس کی ایک ایک سطر ہمارے بزرگوں کی قربانیوں، جدوجہد، صبر اور عزم سے لکھی گئی ہے۔ آج جب ہم آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں تو یہ موقع صرف جشن منانے، پرچم لہرانے اور قومی ترانے تک محدود رہنے کا نہیں، بلکہ اس بنیادی سوال پر غور کرنے کا بھی ہے کہ جن مقاصد اور خوابوں کے لئے ہمارے مجاہدین ِ آزادی نے اپنی زندگیاں وقف کیں، کیا ہم ان خوابوں کی تعبیر کے قریب پہنچ سکے ہیں؟
آزادی کی تحریک صرف اقتدار کی منتقلی کی تحریک نہیں تھی۔ اس کے پیچھے ایک ایسےبھارت کا تصور تھا ،جہاں انسان کو اس کے مذہب، ذات، زبان، علاقے یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کی انسانیت اور شہری حیثیت کی بنیاد پر عزت حاصل ہو۔ ایک ایسا بھارت، جہاں قانون سب کے لئے برابر ہو، جہاں سب کے لئے اظہارِ رائے کی آزادی محفوظ ہو، جہاں غریب کو انصاف ملے، کسان کو اس کی محنت کا مناسب صلہ، مزدور کو باعزت روزگار، نوجوان کو تعلیم اور مواقع اور عورت کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔بعد ازاں ہمارے ملک کےآئین نے اسی خواب کو انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کی صورت میں اپنی تمہید کا حصہ بنایا۔
یہ حقیقت ہے کہ آزادی کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ ملک نے گزشتہ 79 برسوں میں تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت کے اعتبار سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ کروڑوں لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئی ہے اور بھارت دنیا کی اہم معیشتوں میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ کامیابیاں یقیناً قابلِ فخر ہیں۔ تاہم ترقی کی حقیقی معنویت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس کے ثمرات معاشرے کے آخری فرد تک پہنچیں۔
آج بھی غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی اور معاشی عدم مساوات، صحت کی سہولتوں کی کمی اور سماجی محرومی جیسے مسائل ہمارے سامنے موجود ہیں۔ بعض اوقات مذہب، ذات اور زبان کے نام پر پیدا ہونے والی تلخیاں بھی قومی یکجہتی کے لیے تشویش کا سبب بنتی ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو دشمنی اور سیاسی مقابلے کو سماجی نفرت میں تبدیل کر دینا آزادی کے اصل مزاج سے انحراف ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی کی جنگ مختلف عقائد، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مل کر لڑی تھی۔
آج کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آزادی کو صرف اپنا حق نہ سمجھیں، بلکہ اسے ایک اجتماعی امانت بھی تصور کریں۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی روح کے مطابق شفاف، جوابدہ اور عوام دوست نظام قائم کریں، اداروں کو مضبوط کریں، قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں اور ترقی کے مواقع سب کے لئے برابر رکھیں۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کے حقیقی مسائل کو اپنی سیاست کا مرکز بنائیں۔
مگر شہریوں کی ذمہ داریاں بھی کم نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کو بھی یاد رکھنا ہوگا۔ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنا، قانون کا احترام کرنا، عوامی املاک کی حفاظت کرنا، ماحولیات کی حفاظت کرنا ، کمزوروں کی مدد کرنا اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا،یہی آزادی کی حقیقی حفاظت ہے۔ خاص طور پر نئی نسل کو تاریخ سے سبق لیتے ہوئے تعلیم، سائنسی سوچ، آئینی اقدار
اور سماجی ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔آزادی کا اصل مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف ایک غیر ملکی اقتدار سے آزاد ہو گئے؛ اصل آزادی اس وقت مکمل ہوگی جب ہر شہری خوف، بھوک، جہالت، ناانصافی اور محرومی سے بھی آزاد ہو۔ یہی وہ منزل ہے ،جس کی طرف ہمارے مجاہدینِ آزادی کی قربانیاں ہمیں متوجہ کرتی ہیں۔
آج کے دن ہمیں اپنے پرچم کو سلام کرتے ہوئے یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف، مایوسی کے بجائے امید اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔ یہی اس آزادی کا احترام ہوگا، یہی آئین کی روح کی حفاظت ہوگی اور یہی ان بے شمار گمنام و نامور جانبازوں کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سمت ہمارا سب سے بامعنٰی قدم ہوگا۔
*******

