تاثیر 19 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
(پریس ریلیز : نمائندہ آسام) امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، پھلواری شریف، پٹنہ کی جانب سے آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر راحت رسانی اور بازآبادکاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ سیلاب سے جن خاندانوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، انہیں دوبارہ گھر تعمیر کرنے کے لیے تین شیٹ اور بانس فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ جن خاندانوں کے رہائشی اور گھریلو سامان سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں، انہیں بستر، لوہے کے پلنگ، کچن سیٹ، ضروری برتن اور دیگر گھریلو اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔اسی سلسلے میں امارتِ شرعیہ کی امدادی ٹیموں نے نیپالی کھوٹی کے اطراف میں واقع ریلوے کنواری، پرجا بستی، سنتک برج، بورٹل، روضہ پور اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ایک سو سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں کے درمیان مختلف قسم کی راحتی اور بازآبادکاری کی اشیاء تقسیم کیں۔سنتک برج میں 16 خاندانوں کو گھر کی تعمیر نو کے لیے تین شیٹ کا بنڈل اور بڑی تعداد میں بانس فراہم کیے گئے۔ اسی علاقے کی مخدوش حالت میں موجود مسجد کے لیے بھی بڑی تعداد میں تین شیٹ فراہم کی گئیں، تاکہ مسجد کی ضروری مرمت اور تعمیر نو کا کام انجام دیا جاسکے۔دوسری جانب نیپالی کھوٹی کی پرجا بستی میں 46/ خاندانوں کو باورچی خانے میں استعمال ہونے والے ضروری سامان اور برتنوں کا مکمل سیٹ فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر متاثرہ خاندانوں میں بستر، پلنگ، کچن کا سامان اور روزمرہ ضرورت کی مختلف اشیاء بھی تقسیم کی گئیں۔اس کے بعد ریلوے لائن نمبر دو گیٹی سایٹنگ اور بہوبر کے شمالی علاقے میں 50 کے قریب خاندانوں میں ریلیف کا سامان فراہم کیا گیا۔امارتِ شرعیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی صرف فوری غذائی ضرورت پوری کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے بازآبادکاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک طرف تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کے لیے تین شیٹ اور بانس فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سیلاب میں تباہ ہونے والے گھریلو سامان کی جگہ ضروری اشیاء مہیا کی جا رہی ہیں۔امارتِ شرعیہ کی جانب سے جاری اس امدادی و بازآبادکاری مہم کے تحت اب تک آسام کے مختلف سیلاب متاثرہ علاقوں میں ساڑھے چار سو خاندانوں کو مکانات کی تعمیر نو کے سامان اور مختلف راحتی اشیاء فراہم کی جا چکی ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے نتیجے میں سینکڑوں متاثرہ خاندانوں کو اپنے گھروں اور معمول کی زندگی کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد مل رہی ہے۔اس موقع پر شمال مشرقی ہند کے مختلف علاقوں سے وابستہ امارتِ شرعیہ کے ذمہ داران اور مقامی جماعتوں نے امارتِ شرعیہ کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلاب جیسی قدرتی آفت کے بعد اتنے منظم انداز میں سینکڑوں ضرورت مند خاندانوں کی ضروریات پوری کرنا قابلِ قدر اور نمایاں خدمت ہے۔ متاثرین کو لوہے کے پلنگ، بستر، کچن میں استعمال ہونے والے ضروری برتن اور دیگر گھریلو سامان فراہم ہونے سے ان کی زندگی بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم اور ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی سمیت امارتِ شرعیہ کے تمام ذمہ داران نے اس موقع پر ان تمام اہلِ خیر حضرات کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے مخلصانہ تعاون کے ذریعے آسام کے سیلاب متاثرین کی مدد میں اپنا حصہ ادا کیا، آسام میں ریلیف ٹیم کی قیادت جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ فرما رہے ہیں ؛جبکہ اس ٹیم میں جناب مولانا محمد شعیب عالم قاسمی مبلغ امارت شرعیہ، جناب مولانا رفیع احمد ندوی مبلغ امارت شرعیہ، جناب مولانا محمد صابر حسین قاسمی، جناب مفتی عبدالقدوس مظاہری کے علاوہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذ جناب مولانا وجیہ الرحمن، جناب مولانا اسامہ رحمانی کے علاوہ تین طلباء بھی شریک وفد ہیں۔

