تاثیر 01 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی سیٹ پرگزشتہ 30 جولائی کو ہوئی ووٹنگ کے بعد اب سب کو نتیجے کا انتظار ہے، جو کل 3 اگست کو سامنے آنے والا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلےایگزٹ پولز اور مختلف دعووں کا سلسلہ 30 جولائی کی شام سے ہی جاری ہے۔اس درمیان بی جے پی نے بڑی جیت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ چند الگ الگ سروے ایجنسیوں کی پیشین گوئی کچھ اور ہی ہے۔ان کا ماننا ہے کہ جن سوراج پارٹی ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں بی جے پی سے ایک دو قدم آگے ہے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق ’ جن مت پولز‘ نے جن سوراج پارٹی کو 49 سے 52 فیصد، بی جے پی کو 34 سے 36 فیصد اور آر جے ڈی کو 9 سے 10 فیصد ووٹ شیئر دیا ہے۔’ ڈی وی ریسرچ ‘نے جن سُوراج کو 43 اور بی جے پی کو 39 فیصد ووٹ حاصل کرنے کی بات کہی ہے۔’ ووٹ وائب‘، ’پول پنڈت‘ اور ’رودرا ریسرچ ‘کے اعداد و شمار بھی تقریباً اسی سمت اشارہ کرتے ہیں ،جہاں جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور 44 سے 54 فیصد کے درمیان اور بی جے پی امیدوار نیرج کمار سنہا 32 سے 42 فیصد کے درمیان دکھائی دے رہے ہیں۔حالانکہ حال ہی میں آرجے ڈی کو بائے بائے کہہ کر بی جے پی کا دامن تھامنے والے لیڈر مرتیونجے تیواری نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ عوام نے نیرج سنہا کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے اور 3 اگست کو مخالفین کی ضمانت ضبط ہو جائے گی۔
ووٹنگ کے تناسب کی بات کریں تو اس بار 34.24 فیصد رہا، جو گزشتہ اسمبلی الیکشن کے 41.45 فیصد سے تقریباً سات فیصد کم ہے۔ظاہر ہے ووٹنگ کے تناسب کی اس کمی نے کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ بی جے پی نے جن سُوراج پر جعلی ووٹرز لانے اور جن سُوراج نے پولیس پر اپنے کارکنوں کو حراست میں لینے کے الزامات لگائے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں عظیم اتحاد اور جن سوراج پارٹی کے درمیان مبینہ خفیہ مفاہمت کے اشارے بھی سامنے آئے۔ بانکی پور ،جو 1995 سے بی جے پی کی ناقابل شکست سیٹ سمجھی جاتی رہی ہے، اب ایک سخت مقابلے کا میدان بن گئی ہے۔
یہ تمام دعوے، الزامات اور سروے کے نتائج محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ اصل فیصلہ الیکشن کمیشن کے ذریعے کل 3 اگست کو اعلان ہونے والے نتیجے پر منحصر ہے۔ تاہم، اس ضمنی الیکشن کا حقیقی امتحان نتیجے سے آگے بڑھ کر اس بات میں ہے کہ فاتح امیدوار کون سا پیغام لے کر عوام کے سامنے آتا ہے۔اگر بی جے پی اس سیٹ پر اپنی کامیابی کی 30 سالہ روایت کو برقرار رکھتی ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ طویل عرصے کی فتح محض ووٹوں کی گنتی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی تجدید ہے۔ اگر پرشانت کشور کی جن سُوراج پارٹی آگے نکلتی ہے تو یہ تبدیلی کی خواہش کا اظہار ہو سکتا ہے ،لیکن اسے نفرت یا انتقام کی سیاست میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ آر جے ڈی سمیت دیگر امیدواروں کا کردار بھی اسی معیار پر پرکھا جائے گا۔
ملک آج منفی بیانیوں کے دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں بانکی پو اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو، اسے مثبت اور محبت پر مبنی سیاست کے فروغ کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے۔ فاتح کو چاہئے کہ وہ مخالفین کے خلاف تلخ کلامی کے بجائے ترقی، روزگار، تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کے ایجنڈے کو ترجیح دے۔ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر چکے ہیں۔ اب سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ووٹ کو نفرت کے بجائے خدمت اور اتحاد کے لئے استعمال کرے۔کم ووٹنگ، طرح طرح کے الزامات اور سروے کی متضاد تصویریں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جمہوریت صرف الیکشن جیتنے کا نام نہیں ہے۔ جیت تو اس وقت حقیقی ہوتی ہے، جب وہ معاشرے میں امیداور اعتماد پیدا کرے۔ بانکی پور اسمبلی سیٹ کا نتیجہ چاہے جو بھی نکلے، اسے ملک میں مثبت سیاست، باہمی احترام اور تعمیری مکالمے کا پیغامبر بننا چاہئے۔ یہی اس ضمنی انتخاب کی اصلی

