تھوک مہنگائی کی شرح جولائی میں معمولی کم ہوکر 9.78 فیصد پر آگئی

تاثیر 14 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 14 اگست:ایندھن و بجلی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں نرمی کے درمیان تھوک مہنگائی کی شرح جولائی میں معمولی کم ہوکر 9.78 فیصد رہ گئی، جبکہ جون میں یہ 9.87 فیصد تھی۔ ملک میں تھوک مہنگائی مسلسل تیسرے ماہ 9 فیصد سے اوپر رہی ہے۔
وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے ماہانہ بنیاد پر جاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں معدنی تیل (پٹرولیم مصنوعات سمیت)، غذائی اشیا، بنیادی دھاتوں کی تیاری، غیر غذائی اشیا، غذائی مصنوعات کی تیاری اور کیمیکلز و کیمیائی مصنوعات کی تیاری تھوک مہنگائی کے اہم عوامل رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایندھن اور بجلی کے شعبے میں تھوک مہنگائی جولائی میں کم ہوکر 20.05 فیصد ہوگئی، جو جون میں 27.41 فیصد تھی۔ غذائی اشیا کی مہنگائی بھی جولائی میں کم ہوکر 5.44 فیصد رہی، جبکہ جون میں یہ 5.49 فیصد تھی۔ تاہم تیار شدہ مصنوعات کی مہنگائی جولائی میں بڑھ کر 8.29 فیصد ہوگئی، جو جون میں 7.48 فیصد تھی۔
وزارت تجارت و صنعت کے نئے بنیادی سال 2022-23 پر مبنی تھوک قیمت اشاریہ (ڈبلیو پی آئی) کے اعداد و شمار کے تحت پہلی بار مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق مغربی ایشیا کے بحران اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر خام تیل اور کھاد کی لاگت میں اضافہ ہوا، جس کا اثر غذائی قیمتوں پر بھی پڑا۔