تاثیر 21 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کھٹمنڈو، 21 ستمبر: نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ زیر تعمیر 216 میگاواٹ کے اپر تریشولی-1 پن بجلی منصوبے میں اب بھی 439 افراد سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ منصوبے کوفروغ دینے والی کمپنی نیپال واٹر اینڈ انرجی ڈیولپمنٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے مطابق، اب تک 877 افراد کو بحفاظت بچایا جا چکا ہے، جبکہ 78 افراد سے رابطہ قائم ہو چکا ہے اور 39 افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
کمپنی کے مطابق، سیلاب آنے کے وقت منصوبے کے مقام پر نیپالی،کوریائی، چینی، ہندوستانی اور دیگر ممالک کے شہریوں سمیت تقریباً 1,433 افراد کام کر رہے تھے۔
ان میں فروغ کار کمپنی کے علاوہ کنسلٹنٹ ٹریکٹاول اور زیڈ کنسلٹ انجینئرنگ، خریداری اور تعمیر کا کام کر رہی کوریائی کمپنی دوسان، اس کے سول کام کے سب کنٹریکٹر پاور چائنا اور الیکٹرو مکینیکل کام سے وابستہ اینڈریٹز ہائیڈرو سمیت دیگر کمپنیوں کے ملازمین شامل تھے۔
کمپنی نے بتایا کہ کام کرنے والے نیپالی اور غیر ملکی شہریوں کی تلاش اور بچاؤ مہم مسلسل جاری ہے۔ اس کے لییمختلف سرکاری اداروں، سکیورٹی ایجنسیوں، تکنیکی ماہرین، بچاؤ ٹیموں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ تال میل اور تعاون کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کی جانب سے تلاش اور بچاؤ مہم کے لیے ضروری تمام وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔
منصوبے کے ڈیم کے مقام سے مین سرنگ کی جانب جانے والے راستے میں سیلاب کے باعث ایک ٹرک کے الٹ جانے کی بھی اطلاع ملی ہے۔

