تاثیر 21 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں, 21 ستمبر:کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ڈورو کے رکن اسمبلی غلام احمد میر نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی ارکان نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی میں خلل ڈال کر ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر مرکز سے سوالات کا سامنا کرنے سے بچنے کی کوشش کی۔اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ پہلے ہی دن بی جے پی نے ہنگامہ آرائی پیدا کی تاکہ اپنی ناکامیوں کو چھپایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج پورا ایوان متحد ہوکر مرکز سے یہ سوال کرنے والا تھا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ اب تک کیوں پورا نہیں کیا گیا۔
میر نے کہا کہ ریاستی درجہ بحال نہ کرنے کا اثر جموں و کشمیر کی حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل پر بھی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا تو اس کے اثرات موجودہ حکومت کے کام کاج پر بھی نظر آ رہے ہیں۔کیجول اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے مسئلے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میر نے سوال کیا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں سات سال تک حکومت کی اور اس دوران ان ملازمین کے مسائل حل کیوں نہیں کیے۔

