گمچھے کے سہارے آم کے درخت سے لٹکی ملی نوجوان کی لاش، قتل کا اندیشہ

تاثیر 14 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

 سنگھواڑہ دربھنگہ( محمد مصطفٰی) سمری تھانہ علاقہ کی بھراٹھی پنچایت واقع گورا گاؤں کے وارڈ نمبر 3 کے رہنے والے دھنیشور پاسوان کے 30 سالہ بیٹے راجا پاسوان کی لاش پیر کے روز سمری ہائی اسکول کے پیچھے موتی خان کی گا چھی میں آم کے درخت سے گمچھے کے سہارے لٹکی ہوئی ملی۔ لاش ملنے کی اطلاع سے گاؤں میں سنسنی پھیل گئی۔ متوفی کے والد نے قتل کے بعد لاش کو درخت سے لٹکائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہےاہل خانہ کے مطابق راجا پاسوان اتوار کی دوپہر تقریباً دو بجے کام کے سلسلے میں گھر سے نکلا تھا۔ اس کے بعد وہ گھر واپس نہیں آیا۔ پیر کی صبح تقریباً ساڑھے 9 بجے گاؤں کی ایک معمر خاتون لکڑی جمع کرنے کے لیے گاچھی میں گئی تھی۔ اسی دوران اس کی نظر آم کے درخت سے لٹکی لاش پر پڑی۔ خاتون کے شور مچانے پر اہل خانہ اور مقامی لوگ موقع پر پہنچے اور پولیس کو اطلاع دی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی صدر ایس ڈی پی او-2 ایس کے سمن، سمری تھانہ صدر اروند کمار اور ایڈیشنل تھانہ صدر ششی شنکر کمار پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا۔ ایف ایس ایل، ڈاگ اسکواڈ اور تکنیکی ٹیم نے جائے وقوعہ کی جانچ کر شواہد اکٹھے کیے۔صدر ایس ڈی پی او-2 ایس کے سمن نے بتایا کہ پہلی نظر میں معاملہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے، تاہم پولیس ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ اہل خانہ قتل کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں، جس کی جانچ کی جا رہی ہے انہوں نے بتایا کہ راجا کے کچھ عرصے سے پریشان رہنے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس نے ای ایم آئی پر گاڑی لی تھی، جس کی قسط ادا کرنے میں دشواری ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم اسے خودکشی کی حتمی وجہ نہیں مانا جا سکتا۔ راجا مزدوری کر اپنے خاندان کی کفالت کرتا تھا۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کے پسماندگان میں بیوی رنجنا دیوی، تین بیٹیاں اور ماں سوسی دیوی شامل ہیں۔ بڑی بیٹی سندھیا پانچ سال، دوسری بیٹی سوناکشی تقریباً ڈھائی سال اور سب سے چھوٹی بیٹی درگا نو ماہ کی ہے۔شوہر کی لاش دیکھ کر رنجنا دیوی جائے وقوعہ پر بار بار بے ہوش ہو رہی تھیں اور چیخ چیخ کر رو رہی تھیں۔ وہیں معصوم بیٹیاں بھی اپنے والد کو یاد کر کے بلک رہی تھیں۔ اس منظر سے جائے وقوعہ کا ماحول غمگین ہو گیا۔