برکس کے رکن ممالک کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ

تاثیر 13 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 13 ستمبر: برکس رہنماوں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے میں تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی شامل ہے۔ انہوں نے نوادرات کے ساتھ روحانی، آبائی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی حامل اشیاء کو ان کے اصل ملک واپس بھیجنے پر بھی زور دیا ہے۔ہندوستان کی صدارت میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس کے پہلے دن منظور کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ میں گروپ نے برکس وزرائے ثقافت کے 11ویں اجلاس میں بھوپال اعلامیہ کو اپنائے جانے کا بھی خیر مقدم کیا۔ اس میں عوام کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے میں ثقافت کے اہم کردار کی توثیق کی گئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے دن کی بات چیت کے اختتام پر اس اعلامیے کی منظوری کا اعلان کیا۔ اس دوران چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایران کے صدر مسعود پزیشکیان، ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید ا?ل نہیان اور گروپ کے دیگر اعلیٰ رہنما موجود رہے۔