تاثیر 02 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نیپال اور تبت کی سرحد پر حال ہی میں آئےتباہ کن سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ہمالیہ کے بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران کی ایک واضح اور خطرناک تنبیہ ہے۔ لانگٹانگ لیرنگ پہاڑ کی چوٹی سے برف اور چٹانوں کا ایک عظیم ٹکڑا ٹوٹ کر تریشولی اور بھوتے کوشی ندیوں میں گرا، جس نے چند لمحوں میں ایک تباہ کن سیلاب کی شکل اختیار کر لی۔ اس سانحے میں ایک ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں، چار ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں اور نو سو کے قریب ہائیڈرو پاور ملازمین ایک سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہمالیہ، جو کبھی مستحکم سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے ناپائیدار ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تباہی کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ ہمالیہ دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور ان کے پانی سے قدرتی جھیلیں بن رہی ہیں، جنہیں گلیشیئل لیکس کہا جاتا ہے۔ جب ان جھیلوں میں پانی کا دباؤ بڑھتا ہے تو مٹی اور پتھروں کی کمزور دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کروڑوں لیٹر پانی تیز رفتاری سے نیچے کی طرف بہہ پڑتا ہے۔ 2020 میں سرحدی علاقوں میں 47 خطرناک گلیشیئل جھیلیں شناخت کی گئی تھیں، مگر اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ چین کے آبی وسائل کی وزارت نے بھی متنبہ کیا ہے کہ نیپال کی کووجیانگ ندی کے آس پاس کے گلیشیئرز اب انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔ اگر دوبارہ کوئی لینڈ سلائیڈ ہوئی تو نئی غیر مستحکم جھیل بن سکتی ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔
تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس آفت کو صرف قدرتی عوامل تک محدود رکھنا نا مناسب ہوگا۔ چند ماہرین، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بالائی علاقوں میں انسانی مداخلت نے تباہی کے پیمانے کو شایدبڑھا دیا ہے۔ چین کی جانب سے باندھوں، شاہراہوں، ساحلی تعمیرات اور ندی کے راستوں میں تبدیلیوں نے وادیوں کے کچھ حصوں کو تنگ کر دیا ہے۔ عام حالات میں یہ منصوبے ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، مگر شدید سیلاب کی صورت میں وہ پانی کے بہاؤ کو روک کر ثانوی لہریں پیدا کر سکتے ہیں۔ یارلنگ تسانگپو (جو بھارت میں برہم پتر بنتی ہے) پر چین کی مجوزہ میگا ہائیڈرو پاور منصوبے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے پیمانے کے تعمیراتی کام زلزلوں اور لینڈ سلائیڈز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر اس خطے میں جو پہلے ہی ٹیکٹونک دباؤ کے تحت ہے۔
اس صورتحال سے بھارت، نیپال اور چین تینوں ممالک متاثر ہیں۔ لاکھوں لوگ ان ندیوں کے کنارے بستے ہیں، جو کسی بھی وقت گلیشیئل جھیل کے پھٹنے سے زیر آب ہو سکتے ہیں۔ بھارت کے شمالی ریاستوں کے لئے یہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ اگر علاقائی سطح پر ڈیٹا شیئرنگ، شفافیت اور مشترکہ نگرانی کے نظام قائم نہ کیے گئے تو اگلی آفت اور بھی بڑی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں سرحدی تناؤ کے دوران چین کی جانب سے آبی ڈیٹا روکے جانے کے الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں، جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
اس آفت نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی مداخلت اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ کاربن کے اخراج میں کمی، گلیشیئر مانیٹرنگ کے جدید نظام، علاقائی تعاون اور خطرے سے دوچار آبادیوں کی محفوظ منتقلی جیسے اقدامات فوری طور پر اٹھانے ہوں گے۔ قدرت نے آخری موقع دے دیا ہے۔ اگر اب بھی عالمی اور علاقائی سطح پر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو ہمالیہ کا یہ ٹائم بم کئی اور تباہیوں کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت کے لئے یہ واقعہ خاص طور پر ایک سنگین پیغام لیے ہوئے ہے۔ ہمارے شمالی پہاڑی ریاستیں، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، سکم اور اروناچل پردیش،براہ راست ہمالیہ کے گلیشیئرز اور ندیوں کے نظام پر انحصار کرتی ہیں۔ چنانچہ بھارت کو اپنی تیاریوں کو فوری طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ جدید سیٹلائٹ مانیٹرنگ، جلد انتباہی نظام، اور مقامی سطح پر آفت سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین اور نیپال کے ساتھ پانی کے ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ تحقیق پر مبنی سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ داخلی سطح پر پائیدار ترقی، غیر ضروری تعمیراتی منصوبوں پر نظرثانی اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔ اگراس چیلنج کو صرف دوسرے ممالک کی ذمہ داری سمجھ کر نظراندازکیا جاتا ہے تو آنے والے دنوں میںہمیں بھی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہمالیہ کے اس بڑھتے ہوئے خطرے کو قومی ترجیح بنایا جائے، بصورت دیگر اگلی آفت ہمیں بھی بے دست و پا ثابت کر سکتی ہے۔
************

