صحافت کی حفاظت جمہوریت کی بنیاد

تاثیر 04 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

قومی راجدھانی دہلی میں تین ستمبر کو پیش آنے والے دہشت انگیز واقعے نے صحافت کے پیشے اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ’’4  پی ایم ‘‘سے وابستہ دو خاتون صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان نے ساکیت تھانے میں دہلی پولیس کے اہلکاروں پر مذہب پوچھ کر مارپیٹ کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ساکیت میں میکس ہسپتال کی نئی یونٹ کے افتتاحی پروگرام کو کور کرنے گئی تھیں، جہاں مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ موجود تھے۔ اس دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ سے سوال پوچھنے کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں تھانے لے جایا گیا اور وہاں مبینہ طور پر انھیںتشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ ان سے مذہبی شناخت دریافت کی گئی اور پھر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
اس واقعے کی تفصیلات اب متعدد رپورٹس اور صحافی تنظیموں کے بیانات کے ذریعے سامنے آ چکی ہیں۔ شاہین خان کے وائرل ویڈیو میں وہ جسمانی چوٹوں کے نشانات دکھا کر پولیس کے رویے کی شکایت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق پروگرام کی جگہ سے کافی دور کھڑے ہو کر صرف ایک سیلفی ویڈیو بنائی جا رہی تھی۔اسی وقت چند پولیس اہلکاروں نے مداخلت کی ۔ مبینہ طور پر انھوں نے فون چھیننے کی کوشش کی اور بعد میں انہیں تھانے لے جا کر ایک بند کمرے میں ان کے ساتھ مارپیٹ کی ۔ صحافیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ طبی امداد کی درخواست کے باوجود فوری مدد نہیں ملی۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے ان تمام الزامات کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ دونوں خواتین نے وی آئی پی راستے میں اسکوٹر کھڑا کر رکاوٹ پیدا کی تھی اور بار بار ہدایت کے باوجود گاڑی نہیں ہٹائی، اس لئے انہیں تھانے بلایا گیا۔ جنوبی دہلی کے پولیس ڈپٹی کمشنرکا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سے سوال پوچھنے پر مارپیٹ کے دعوے بالکل بے بنیاد ہیں۔
ظاہر ہے،اس تنازعے نے صحافی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمن پریس کارپس، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے مشترکہ بیان میں اس مبینہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں نے ساکیت تھانے کے انچارج سمیت متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے ساتھ واقعہ کے مقام پر ہی بدسلوکی کی گئی اور تھانے میں مذہبی شناخت پوچھ کرہتک آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔ صحافی تنظیموں نے پریس کونسل سے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے اور آزادانہ تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔
اس واقعے کی سنگینی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ دو خاتون صحافیوں سے متعلق ہے۔ صحافت میں خواتین کی موجودگی اور ان کی حفاظت جمہوری معاشرے کی صحت مند نشوونما کے لئے ناگزیر ہے۔ اگر صحافی اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے جسمانی یا ذہنی تشدد کا شکار ہوں تو یہ نہ صرف انفرادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مجموعی طور پر پریس کی آزادی کو کمزور کرتا ہے۔ مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ  بنائے جانے کا الزام مزید تشویشناک ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں مذہب، نسل یا جنس کی بنیاد پر امتیاز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ صحافیوں کا کام حقیقت کی تلاش اور عوامی مفاد میں سوالات اٹھانا ہے، اور اس عمل میں انہیں تحفظ حاصل ہونا چاہئے۔
اس مرحلے میں سب سے ضروری بات غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ہے۔ دونوں فریقین کے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ صحافیوں نے جسمانی چوٹوں کے نشانات اور طبی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جبکہ پولیس نے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایسے حالات میں آزادانہ تحقیقات ہی حقیقت تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر ایک آزاد کمیٹی تشکیل دیں جو تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، طبی رپورٹس اور گواہان کے بیانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر کسی اہلکار کی جانب سے زیادتی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہئے۔ اسی طرح اگر الزامات بے بنیاد ثابت ہوں تو ان کی تردید بھی واضح طور پر سامنے آنی چاہئے۔
صحافی برادری کا اتحاد اس موقع پر قابل قدر ہے۔ مختلف تنظیموں کا مشترکہ موقف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پریس کی آزادی کسی ایک گروہ یا فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ خاتون صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات سے دیگر صحافیوں، خاص طور پر خواتین صحافیوں میں خوف پیدا ہو سکتا ہے جو میدان صحافت میں ان کی شرکت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسلئے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ نہ صرف اس مخصوص واقعے کی تحقیقات کروائیں بلکہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے واضح ہدایات جاری کریں۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی سب کے لئےیکساں ہونی چاہئے۔ صحافی ہوں یا عام شہری، کسی کے ساتھ بھی غیر قانونی رویہ قابل قبول نہیں ہے۔ شاہین خان اور نفیسہ خان کے کیس میں شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی نہ صرف ان دو صحافیوں کے لئے ضروری ہے بلکہ مجموعی طور پر میڈیا کی آزادی اور اداروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔ جمہوریت تب ہی مضبوط رہتی ہے جب اس کے ستونوں کو تحفظ حاصل ہو۔ حقیقت کی تلاش کرکے دنیا کے سامنے لانے والی صحافت کو بلا خوف اپنے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملنا چاہئے۔
********