انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال

تاثیر 23 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

انڈین ایکسپریس کی ایک تفتیشی رپورٹ نے انتخابی عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دو اراکین نے گزشتہ چند مہینوں میں کئی اہم معاملات پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے اختلاف ظاہرکرتے رہے ہیں۔ ان اعتراضات میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹرلسٹ میں ناموں کا اضافہ اور حذف، فارم ۔6میں تبدیلی اور سافٹ ویئر کے مرکزی کنٹرول جیسے مسائل شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس مہینوں میں چودہ بار اعتراضات درج کیے گئے، جنہیں کچھ جگہوں پر غیر مجاز اور غیر قانونی قرار دیا گیا۔ظاہر ہے، اس رپورٹ کے بعد سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہونا فطری ہے۔چنانچہ الیکشن کمیشن کی کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ یا مواخذے کی مانگ کی ہے۔
یہ تنازع صرف ایک رپورٹ تک محدود نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے مبینہ ووٹ چوری کو ملک کے عوام کے خلاف جرم اور آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے بی جے پی، آر ایس ایس اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل آئین کی روح کے خلاف ہے۔کمیشن کے ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے بھی فارم۔6میں تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے قواعد میں ترمیم کی باقاعدہ کارروائی ضروری تھی۔ انہوں نے ووٹر لسٹ کے سافٹ ویئر کے مرکزی کنٹرول پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مقامی سطح پر درست پائے جانے والے نام بھی سافٹ ویئر میں درج نہ ہو سکے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کے اتفاق رائے سے لیے گئے ہیں۔
ظاہر ہے،اس صورتحال نے جمہوری اداروں پر اعتماد کے مسئلے کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارہ ہے، جس کا بنیادی کام آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔ جب اس ادارے کے اندرونی اختلافات سامنے آتے ہیں اور ووٹرلسٹ سے بڑی تعداد میں نام ہٹائے جانے کے الزامات لگتے ہیں تو عوام کے اعتماد کامتاثر ہونافطری ہے۔ تیرہ کروڑ سے زیادہ ناموں کے حذف ہونے کا معاملہ، چاہے اس کے خلاف اپیل کا اختیار موجود ہو، عام شہریوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اپوزیشن اسے منظم ووٹ چوری قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت اور کمیشن اسےحسب معمول صفائی کا عمل بتاتے ہیں۔ دونوں طرف کے موقف موجود ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شفافیت کے بغیر کسی بھی موقف کو مکمل طور پر قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس تنازع سے وابستہ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لئے ہر سطح پر ایمانداری اور دیانتداری ناگزیر ہے۔ چاہے وہ الیکشن کمشنر ہوں، سیاسی جماعتیں ہوں یا انتظامیہ، سب کو اپنے فرائض دیانتداری سے نبھانے چاہئیں۔ اگر ادارے کے اندر اختلافات ہوں تو انہیں کھلے عام سامنے لانا اور شفاف طریقے سے حل کرنا چاہئے۔ فارم ۔6 جیسی قانونی دستاویزات میں تبدیلی بغیر مناسب طریقہ کار کے نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی طرح سافٹ ویئر کے کنٹرول کی مرکزیت بھی مقامی سطح پر فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ملک میں جمہوریت تب ہی مضبوط رہتی ہے، جب ادارے غیر جانبدار اور جوابدہ ہوں۔ الیکشن کمیشن پر سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات، چاہے وہ درست ہوں یا نہیں، ادارے کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ کمیشن خود اپنی کارروائیوں کو واضح کرے اور تمام اعتراضات کا تفصیلی جواب پیش کرے۔ سپریم کورٹ یا پارلیمنٹ جیسے فورم اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی الزام تراشی کے بجائے اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ شفاف عمل، آزاد ادارے اور عوام کے اعتماد کا نام ہے۔ جب تک ہر سطح پر ایمانداری اور دیانتداری قائم نہیں رہے گی، ادارے کمزور پڑتے رہیں گے اور عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا رہے گا۔ موجودہ تنازع ایک موقع ہے کہ تمام فریقین اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اور جمہوری اقدار کو فوقیت دیں۔ صرف اسی طرح ملک کی جمہوریت کو زندہ اور مضبوط رکھا جا سکتا ہے۔
******